8NovNo Comments
ٹرمپ ازم کیا ہے؟ – RCP | انقلابی کمیونسٹ پارٹی
|تحریر: برائس گورڈن، ترجمہ: ولید خان|
امریکیوں کو یہ سننے کی عادت پڑ چکی ہے کہ ہر انتخاب ”ہماری زندگیوں کا اہم ترین (انتخاب) ہے“۔ اس سال دونوں امیدواروں نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بحث عام کر دی ہے کہ یہ انتخابات امریکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں۔ ”ٹرمپ کی حمایت یا مخالفت؟!“۔ دونوں بڑی پارٹیوں کی جانب سے اس سوال کو بقاء کا سوال بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن ٹرمپ ازم کیا ہے؟ اس سوال پر بہت زیادہ ابہام موجود ہے۔ اس بیماری کی درست تشخیص کیے بغیر یہ سمجھنا ناممکن ہے کہ امریکی سماج کی سمت کیا ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
عدم استحکام کا عہد
ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک امریکی حکمران طبقے نے حیران کن سیاسی استحکام کے مزے لوٹے ہیں۔ لیکن صورتحال 2016ء میں تبدیل ہونی شروع ہو گئی جب عام انتخابات میں دہائیوں سے جاری معاشی گراوٹ اور طبقاتی غم و غصہ پھٹ کر سطح پر نمودار ہو گئ...
15OctNo Comments
Students Protest Gains Momentum In Lahore Over Punjab College Incident | Dawn News
https://youtu.be/KgUZAOEJo2E?si=5vJ58Erku5LpuLWZ
11OctNo Comments
Join Zoom Meeting
Join Zoom Meetinghttps://us02web.zoom.us/j/82497540102?pwd=s8yUHFtZm57uhgbqWGEqpfeQMUISaN.1
Meeting ID: 824 9754 0102Passcode: 638300
25SepNo Comments
بم نہیں، کتابیں! میزائل اور ٹینک نہیں، ہسپتال اور سکول!جنگیں اور اسلحہ ساز کمپنیوں کی منافع خوری میں اضافہ
Analysis, International
|تحریر: آرتورو رادریگز، ترجمہ: عمر ریاض|
لینن نے ایک بار کہا تھا ”جنگ ایک خوفناک چیز ہے؟ ہاں، لیکن یہ ایک بہت منافع بخش چیز ہے“۔ مختلف سامراجی ممالک کے مابین موجودہ تنازعات اور پراکسی جنگوں کی شدت ایک بار پھر لینن کو بالکل درست ثابت کر رہی ہے۔ جبکہ ہزاروں لوگ غزہ، یوکرین، کانگو، سوڈان اور دیگر جگہوں پر قتل ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر دفاعی اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں، چند سرمایہ دار اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ مزدور طبقہ اس مہلک خرچ کی قیمت چکا رہا ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
اہم سامراجی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات اور نئی پراکسی جنگوں نے سرمایہ دارانہ حکومتوں کو فوجی اخراجات کو بے مثال حد تک بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ 2022ء میں عالمی فوجی اخراجات میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.24 ٹریلین ڈالر کی نئی بلندی پر پہنچ گیا۔ نیٹو اتحادی...
22JulNo Comments
نیٹو کا اجلاس ہوتے ہی اسرائیل چار دنوں میں چار اسکولوں پر بمباری کرتا ہے۔
اشنگٹن ڈی سی میں نیٹو فوجی اتحاد کا اجلاس ہو رہا تھا، اسرائیل نے چار دنوں میں غزہ کے چار� اسکولوں پر بمباری کی۔ صدر جو بائیڈن کی دعوت پر
اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔�خان یونس شہر کے مشرق میں واقع یونائیٹڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطین (یو این آر ڈبلیو اے) کے العودہ اسکول پر اسرائیل کی تازہ بمباری کو صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ دنیا کے لیے نیٹو کے ایک پیغام کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ .�
اسکول واضح طور پر نشان زد اور معروف تھا۔ اس کے اندر اور آس پاس کی زمینوں پر خیموں میں بے دفاع پناہ گزینوں سے بھرا پڑا تھا ۔ ایک بار پھر بمباری میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔�غزہ کے تمام اسکول اس وقت بند ہیں کیونکہ غزہ کے 2.3 ملین افراد میں سے 85 فیصد سے زیادہ اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہ...
22JulNo Comments
آپ کو کمیونسٹ کیوں ہونا چاہیے؟
|تحریر: فضیل اصغر|
پاکستان میں اس وقت مہنگائی، بیروزگاری، غربت، جہالت، لاعلاجی کا طوفان آیا ہوا ہے۔ مگر اس طوفان سے کروڑوں مزدوروں، کسانوں، مزارعوں اور سفید پوش درمیانے طبقے کے ہی خیمے اُڑ رہے ہیں، سرمایہ داروں، بنکاروں، صنعتکاروں، جاگیرداروں، ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹوں کے محلات پر آنچ بھی نہیں آ رہی۔
ایک طرف محنت کش عوام کی اکثریت 20 سے 25 ہزار روپے میں پورا مہینہ گزارنے پر مجبور ہے تو دوسری طرف حکمرانوں کی دولت اور عیاشیاں پہلے سے بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ جہاں محنت کش عوام کا ہر مہینے صرف بجلی کا بل ہی ان کی تقریباً پوری اجرت کھا جاتا ہے وہیں امیروں کے گھر چوبیس گھنٹے گرمیوں میں اے سی سے ٹھنڈے اور سردیوں میں ہیٹر سے گرم رہتے ہیں۔ اس صورت حال میں حکمران یہ رونا رو رہے ہیں کہ ملکی معیشت بحران میں ہے، لہٰذا آئی ایم ایف کے احکامات کے مطابق مہنگائی کرنا مجبوری ہے۔
معاشی بحران، مگر ک...
13JulNo Comments
بین الاقوامی کمیونسٹ سیمینار کا اعلامیہ
Leave a Comment / History, International, Left Ideas, Marxism / Leninism / By left
اعلامیہ کیمونسٹ انٹرنیشنل سیمینار 1999
-نوٹ
بین الاقوامی کمیونسٹ سیمینار ایک سالانہ کمیونسٹ کانفرنس تھی جو مئی انیس سو نناوے میں برسلز، بیلجیم میں منعقد ہوئی۔ اس کا اہتمام ورکرز پارٹی آف بیلجم�
نے کیا تھا۔ 1992 میں ورکرز پارٹی بیلجیم کے راہنماء لڈو مارٹینز نے کانفرنس کا آغاز کیا، جس میں مارکسسٹ-لیننسٹ پارٹیوں اور تنظیموں کے مختلفرجحانات کو اکٹھا کیا گیا۔ وہ مارکسی-لیننسٹ تحریک کے چار اہم رجحانات کے اتحاد کی تجویز پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ یہ سوویت نواز گروپ ہیں، چین نواز، البانیہ نواز، اور پرو کیوبا۔ افریقہ، لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ، ایشیا اور یورپ کی تقریباً 200 تنظیموں نے اس میں حصہ لیا۔ چار سال تک، 1992 سے 1995 تک، سوویت یونین میں سرمایہ دارانہ بحالی کے حقیقی اسباب” ا...
26JunNo Comments
ہندوستان کے عام انتخابات اور خطے کا مستقبل
قسط نمبر- 2
پروفیسر امیر حمزہ ورک
بھارت میں عام انتخابات کے بعد مودی نے وزیر اعظم کا حلف لے لیا ہے-کابینہ بھی بن گئی ہے ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلی کابین ہے جس میں ایک بھی مسلمان وزیر نہی ہے-جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہی ہے کہ مودی حکومت کا مسلمانوں کے بارے میں کیا رویہ رہا ہے اور آئیندہ کیا ہو گا- لیکن بہت تھوڑے مارجن سے جیتنے والی اور اپنے اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی بی جے پی حکومت کو اب پہلے سے زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا-بھارتی پارلیمنمٹ لوک سبھا کے اندر ڈھائی سو کے قریب حزب مخالف کے اراکین مودی کی پالیسیون کے بخرے ادھیڑ کر رکھ دیں گے کیونکہ اب مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے زوال کا زمانہ شروع ہو گیا ہےمسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی کا نعرہ جو شلنا تھا چل چکا-ان ا نتخابات کو ہندوستان کے عوام نے بہت سنجیدہ لیا ہے اور بھارت کے آئین –جمہوریت اور سیوکولرازم کو ...
26JunNo Comments
ہندوستان کے عام انتخابات اور خطے کا مستقبل
قسط نمبر -1
پروفیسر امیر حمزہ ورک
ُہندوستان مین اٹھارویں عام انتخابات مکمل ہو گئے-بڑے زبردست مقابلے کے بعد مودی کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کا تحاد نیشنل دیمو کریٹک الائینس پانچ سو تنتالیس کے ایوان مین 293 سیٹس لینے میں کامیاب ہوا اور یوں مودی پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد دوسرے سیاستدان ہیں جو
تیسری بار وزیر اعظم بن گئے- مودی اتحاد کے مد مقابل کانگرس کی قیادت میں انڈین نیشنل ینکلوسو الائینس (انڈیا) بنا جس نے مجموعی طور پر 234 سیٹیں حاصل کیں- مودی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائینس دائیں بازو کا انتہا پسند اتحاد ہے جس میں میں 37 سیاسی جماعتیں شامل ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ باقی تمام سیاسی جماعتین علاقائی بنیادوں پر منظم ہین۔۔اس الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی اپنی سیٹیں 240 ہیں یعنی حکومت بنانے کے لئے وہ 32 سیٹیں پی...
