ہندوستان میں سٹالنسٹ اور اصلاح پسندبائیں بازو کی جماعتوں کامکمل زوالہندوستانی انتخابات (اپریل تا مئی 2026)

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں حالیہ انتخابات پانچ ریاستوں میں منعقد
ہوئے۔ یہ ریاستیں ملک کے سب سے زیادہ گنجان آباد اور سیاسی طور پر اہم خطوں میں
شامل ہیں۔ یہ ریاستیں درج ذیل ہیں:

آسام1
مغربی بنگال2
کیرالہ3
تامل ناڈو4
پانڈیچیری5


ہندوستانی سیاست کا مختصر تعارف
آزادی کے بعد سے ہندوستانی سیاست کا مرکز قومی سطح پر سیکولر انڈین نیشنل
کانگریس پارٹی جبکہ مختلف ریاستوں میں سٹالنسٹ، اصلاح پسند اور قوم پرست
جماعتیں رہی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا جیسی جماعتوں نے ہندوستان کے آئین کے
دائرے میں کام کیا اور مخلوط معیشت (سرکاری اور نجی شعبے دونوں) کی حمایت کی۔
ہندوستان کا سیاسی نظام، جمہوری ادارے اور سول ڈھانچہ مکمل طور پر برطانوی
نوآبادیاتی دور سے ورثے میں ملے تھے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی معاشی ترقی کی
سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک تھی۔ اس کے علاوہ نجی معیشت کی حدود اور
پاکستان اور چین کے ساتھ طویل تنازعات بھی اہم مسئلہ تھے۔ ان تنازعات نے ہتھیاروں
کی دوڑ کے ذریعے ہندوستان کے معاشی وسائل کا ایک بڑا حصہ کھا لیا۔ ہندوستان اور
پاکستان کے درمیان مرکزی تنازعہ کشمیر کا مسئلہ رہا ہے جسے دونوں ممالک اپنا حق
سمجھتے ہیں۔

برطانوی نوآبادیات سے پہلے برصغیر ان علاقوں پر مشتمل تھا جو آج بھارت، پاکستان،
بنگلہ دیش، نیپال، میانمار (برما) اور افغانستان کے کچھ علاقے ہیں۔ یہ علاقے متعدد
چھوٹی چھوٹی سلطنتوں اور ریاستوں میں تقسیم تھے جن کی اپنی زبان، ثقافت اور سیاسی
ڈھانچے تھے۔ برطانوی نوآبادیات نے ان تمام علاقوں کو ایک ہی انتظامی نظام کے تحت
متحد کیا اور بعد میں اُنہیں مختلف ممالک میں تقسیم کر دیا۔ موجودہ ہندوستان ایک متحدہ
ریاست کے طور پر برطانوی دور میں ہی وجود میں آیا۔
یہ تاریخی پس منظر یہ بھی بتاتا ہے کہ کیوں ہندوستان اور پاکستان دونوں میں علیحدگی
پسند تحاریک موجود ہیں اور نئی دہلی اور اسلام آباد ان کے خلاف ریاستی طاقت استعمال
کرتے ہیں۔
قومی سطح پر کانگریس پارٹی کئی دہائیوں تک حکومت میں رہی لیکن وہ عام لوگوں
کے حالات زندگی میں خاص بہتری لانے میں ناکام رہی۔ کئی ریاستوں میں کمیونسٹ اور
قوم پرست جماعتوں نے اثر و رسوخ حاصل کیا۔ مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی نے
تقریباً چونتیس سال تک مسلسل حکومت کی لیکن وہ معیشت یا سیاسی ڈھانچے پر
مزدوروں کا حقیقی کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہی۔
جب یہ سیکولر اور ریفارمسٹ جماعتیں بنیادی ساخت تبدیل کرنے میں ناکام رہیں تو
کانگریس پارٹی نے 1990 کی دہائی میں نو آزادانہ معاشی اصلاحات متعارف کروائیں
اور ہندوستان کو مخلوط معیشت سے سرمایہ دارانہ نظام کی طرف منتقل کر دیا۔ سرکاری
شعبے کی صنعتیں تیزی سے نجی ہاتھوں میں چلی گئیں۔ معیشت مجموعی طور پر تو
بڑھی لیکن زیادہ تر دولت نجی شعبے میں مرتکز رہی اور عام لوگوں کی مشکلات میں
شدت آتی گئی۔
اس صورتحال کا بخوبی استعمال انتہائی دائیں بازو کی مذہبی قوم پرست جماعت بھارتیہ
جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کیا۔ دنیا بھر کی دائیں بازو کی انتہاء پسند تحاریک کی
طرح، بی جے پی نے مختلف مذاہب کے درمیان تقسیم اور دُشمنی کو فروغ دیا۔ پارٹی نے
ہندوستان کو سیکولر ازم سے مذہبی قوم پرستی کی طرف دھکیل دیا۔ اس کا نعرہ کہ “ہندو
راج ہی ہندوؤں کی خوشحالی یقینی بنائے گا” نے ہندوستان کے سماجی اور ثقافتی تانے
بانے کو گہرا مُتاثر کیا۔
حالیہ انتخابات

آسام.1

آسام میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے اتحادنے فتح حاصل کی۔ چونکہ بی
جے پی پہلے سے ہی ریاست کی حکمران جماعت تھی اس لیے اس نتیجے نے اُسے
اقتدار برقرار رکھنے کا موقع دیا۔

مغربی بنگال2
مغربی بنگال جس کی آبادی تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ ہے یہ ریاست ہندوستان میں
انتہائی سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ریاست کبھی سی پی آئی کا بڑا گڑھ تھی جہاں اس
نے چونتیس سال تک مسلسل حکومت کی۔ تاہم 2011 میں سی پی آئی کی حکومت کو
سیکولر آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے شکست دی جو ریاست میں کمیونسٹ
تحریک کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔
اس کے بعد سے ٹی ایم سی اقتدار میں تھی جبکہ سی پی آئی نے سیاسی طور پر مسلسل
اپنی نشستیں کھوتی رہی۔ 2026 کے حالیہ انتخابات میں جس ریاست کو کبھی سی پی
آئی کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں سے سی پی آئی محض ایک نشست حاصل کر
سکی۔
ریکارڈ 93.71 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ بی جے پی جو پہلے سے ہی قومی سطح پر اقتدار
میں تھی اُس نے بنگال جیتنے پر پوری توجہ مرکوز کر دی۔ ناقدین کے مطابق پارٹی
نے اپنی معمول کی حکمت عملی یعنی فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دینے کا سہارا لیااور
خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ ہندوستانی الیکشن کمیشن نے 10 ملین ووٹرز کو
فہرست سے خارج کر دیا جن میں 27 لاکھ ووٹرز کی نااہلی کے خلاف چیلنج کو بھی
بغیر سماعت کے خارج کر دیا گیا۔
ساتھ ہی بی جے پی نے ایک انتہائی مُنظم اور ٹارگٹڈ انتخابی مہم چلائی جس میں اس نے
ٹی ایم سی کی کمزوریوں کو پہچانا اور ان کا مؤثر استعمال کیا۔ نتیجتاً ایک ریاست جو
کبھی بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ تھی وہ فیصلہ کن طور پر بی جے پی کی طرف
جُھک گئی۔ یہ واضح طور پر اصلاح پسندکمیونسٹ سیاست کو مُسترد کرنے کی عکاسی
کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی ساخت میں تبدیلی کے بغیر اصلاح پسندی سیاسی
طور پراپنے آپ کو خود سے برقرار نہیں رکھ سکتا۔
انتخابی فتح کے بعد مسلمانوں پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

کیرالہ3
کیرالہ طویل عرصے سے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے تحت کمیونسٹ
سیاست کا ایک اور مضبوط گڑھ تھا جس میں سی پی آئی اور سی پی ایم دونوں شامل
تھیں۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک یہ کیرالہ میں ہندوستان کی آخری بڑی
کمیونسٹ زیر قیادت ریاست رہی۔
تاہم حالیہ انتخابات میں سیکولر یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) نے ایل ڈی ایف
کو فیصلہ کُن شکست دی۔ یو ڈی ایف نے 102 نشستیں حاصل کیں جبکہ ایل ڈی ایف
صرف 35 نشستیں ہی حاصل کر سکی۔

تامل ناڈو4
تامل ناڈو میں ٹی وی کے نام سے ایک نئی لبرل سینٹرسٹ پارٹی ایک بڑی سیاسی قوت
کے طور پر اُبھری ہے۔ یہ پارٹی صرف دو سال قبل مشہور اداکار جوزف وجے نے قائم
کی تھی۔
کُل 234 میں سے ٹی وی کے نے 108 نشستیں جیتیں جبکہ ڈراویڈا منیترا کاژگم (ڈی
ایم کے) نے 73 نشستیں حاصل کیں۔ ڈی ایم کے تقریباً پچیس سالوں سے ریاست کی
حکمران جماعت تھی۔

پانڈیچیری5
پانڈیچیری میں ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ 89.87 فیصد رہا۔ بی جے پی کی قیادت والے این
ڈی اے اتحاد نے انتخابات جیتے اور ریاست پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔
انتخابات کا تجزیہ
آج ہندوستان میں ایک بھی ایسی ریاست موجود نہیں ہے جہاں کمیونسٹ پارٹیوں کی
حکومت ہو۔ یہ ہندوستانی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہے اور ہندوستان کے مختلف
حصوں میں تقریباً پچاس سالہ کمیونسٹ دور کا خاتمہ ہے۔ مرکزی سوال یہ ہے کہ ایسا
کیوں ہوا ہے؟
موجودہ تجزیے کے مطابق ایک بڑی وجہ ان پارٹیوں کا سوویت یونین کے زوال اور
چین کے سرمایہ داری کی طرف منتقلی کے عمل پر تنقیدی نظرثانی کرنے میں ناکامی

ہے۔ اگر ان پیش رفتوں کو حقیقت پسندانہ طور پر سمجھا اور سیاسی طور پر حل کیا جاتا
تو شاید ہندوستان میں کمیونسٹ جماعتوں کا اثر و رسُوخ کا تقریباً مکمل خاتمہ نہیں ہوتا۔
سوویت یونین میں سٹالنسٹ ناکامی نے آخر کار سرمایہ داری کی راہ ہموار کی۔
بیوروکریٹک کنٹرول کو ختم کرنے اور مزدوروں کو طاقت منتقل کرنے کی بجائے پارٹی
کے بہت سے اشرافیہ طبقے نے ریاستی صنعتوں پر ذاتی کنٹرول حاصل کیا اور بعد میں
ان کی نجکاری سے فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح کے واقعات چین اور دیگر جگہوں پر بھی
پیش آئے۔
پچھلے پینتیس سالوں میں ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹیوں نے انتخابی اتحادوں اور سرمایہ
دار اور دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اقتدار کی شراکت داری پر توجہ مرکوز کی۔ وہ
انقلابی اصلاحات کے لیے زور دینے یا حکومت اور معیشت میں مزدوروں کا حقیقی
کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہیں۔
فیصلہ سازی بھی پارٹی قیادت کے اندر ہی مرکوز رہی اور عام حامیوں اور ووٹرز کو
بامعنی شرکت سے خارج کر دیا گیا۔ بنیادی ساخت میں تبدیلی کے بغیر عوام میں
مایوسی بڑھتی گئی اور بہت سے ووٹرز بالآخر انتہائی دائیں بازو کی سیاست کی طرف
مُڑ گئے۔ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ کئی دہائیوں کی کمیونسٹ حکمرانی بھی عوام کے سیاسی
شعور میں بنیادی تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔
یہ نہ صرف سٹالنسٹ نظریے کی ناکامی ہے بلکہ عالمی سطح پر اصلاح پسندی کے
وسیع تر خاتمے کی علامت ہے۔ اس نُقطہ نظر کے مطابق بائیں بازو کو اب متروک
سیاسی طریقوں کو ترک کر کے نئی انقلابی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی جو کام کی
جگہوں، سیاسی جماعتوں اور سرکاری اداروں میں مزدوروں کے جمہوری کنٹرول کو
یقینی بنائے۔ ورنہ نہ ہندوستان میں اور نہ ہی دنیا میں کسی بھی قسم کی اصلاح پسندی
کے لیے کوئی گنجائش باقی رہے گی۔

Vaqar Fayyaz
Media Coordinator of ASIA COMMUNE

Loading

Related posts