InternationalPakistanPolitical

فرانس میں اُبھرتا ہوا طلباء کا انقلاب

6 اکتوبر 2026 کو فرانس میں طلبہ کا ایک انقلابی طوفان برپا ہے۔ کو ہونے والے ملک
گیر مظاہروں میں 450,000 سے زائد افراد نے شرکت کی جن میں 100,000 سے
زائد افراد صرف پیرس میں سڑکوں پر نکلے۔ اِس تحریک کی حمایت کرنے والے طلبہ،
مزدور یونینوں اور سماجی، جمہوری و سیاسی تنظیموں نے بھی ان احتجاجی مظاہروں
میں حصہ لیا۔ اس سے ایک روز قبل یعنی 5 اکتوبر کو ملک کے دو ہزار ثانوی اسکولوں
میں تالا بندی کی گئی جو ملک کے تمام ثانوی اسکولوں کی نصف سے بھی زیادہ تعداد
ہے۔ اسی طرح طلبہ کے بڑے بڑے عوامی اجتماعات کے بعد جن میں سینکڑوں بلکہ
ہزاروں طلبہ نے شرکت کی۔ اس تحریک میں ملک کی تقریباً نوئے فیصد جامعات بھی
اِس میں شامل ہو گئیں۔ اِس تحریک کا مؤقف ہے کہ فرانس میں محنت کشوں اور عوام کی
حکومت کا قیام ہی معیاری تعلیم کے حصول کا واحد حقیقی راستہ ہے۔ تاہم، لا فرانس
اَنسومیز (LFA) اور بائیں بازو کی دعوے دار تنظیمیں اِس حل پر غور کرنے سے بھی
انکار کرتی ہیں کیونکہ وہ بورژوا سامراجی جمہوریت کا دفاع کرتی ہیں۔
میکرون اور لیکورنو کی سرمایہ دار حکومت نے ان احتجاجی مظاہروں کو بے رحمی
سے کُچلا اور تقریباً 6500 افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا جن میں سے افراد کو
قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ اِن میں بھاری اکثریت نابالغوں کی ہے۔ تاہم، ریاستی جبر
فرانس کے نوجوانوں کی بغاوت کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ دو ہفتوں تک ہائی
اسکولوں اور ثانوی تعلیمی اِداروں میں بتدریج تالا بندیوں کے بعد طلبہ اور اساتذہ کی
یونینوں نے ملک گیر سطح پر ایک زبردست تعلیمی ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی جس
نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تحریک 6 اور 7 اکتوبر کو اپنے عروج پر پہنچ
گئی۔ اس دوران بیک وقت ایک 170 سے زائد جلوس نکالے گئے جنہوں نے پیرس،
مارسی، لیون، بورڈو اور لِل جیسے شہروں میں جامعات اور سیکڑوں اسکولوں کی
سرگرمیاں مفلوج کر دیں۔ اس تحریک کو مزدور یونینوں، والدین کی انجمنوں اور جامعات
کے طلبہ تحریکوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ یہ سب فرانس کے سامراجی سرمایہ
دارانہ نظام اور اِس کی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال میں شریک ہوئے
ہیں۔

فرانسیسی عوام عالمی انقلابی لہر کی قیادت کرتے ہوئے
طلبہ کے اس انقلاب کی قیادت غریب ترین نوجوان کر رہے ہیں جن میں افریقہ اور
مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن یا تارکینِ وطن خاندانوں میں پرورش
پانے والے نوجوان شامل ہیں۔ اِس تحریک کا آغاز مُتبادل اساتذہ کی فراہمی، جماعتوں میں
طلبہ کی حد سے زیادہ تعداد اور اسکولوں کے بُنیادی ڈھانچے کی بگڑتی ہوئی صورتِ

حال سے متعلق مطالبات کے نتیجے میں ہوا۔ بعد ازاں، ان مطالبات میں پارکورسوپ
(Parcoursup) جیسی جامعات میں داخلے کے نظام کو ختم کرنے اور اعلیٰ تعلیم میں
داخلے کے لیے ہزاروں نئی نشستیں پیدا کرنے کے مطالبات بھی شامل ہو گئے۔ اب طلبہ
گرفتاریاں بند کرنے اور پولیس کی مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اس
انقلاب کو بھڑکانے والی چنگاری پیرس کے نواحی علاقے کریتے (Creteil) میں واقع
سینٹ ایکزُوپیری انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ اور اساتذہ کی تحریک تھی۔ پیرس کے ان
مضافاتی علاقوں کو بانلیو (banlieue) کہا جاتا ہے۔ وہاں طلبہ اور اساتذہ نے متبادل
اساتذہ کی عدم دستیابی، جماعتوں میں طلبہ کی حد سے زیادہ تعداد اور وسائل کی قلت
کے خلاف 17 ستمبر 2026ء کو ہڑتال شروع کی۔ یہی ہڑتال آگے چل کر وسیع تر
انقلابی تحریک کا نقطۂ آغاز بنی ہے۔
28 ستمبر 2026ء کو پورے فرانس میں 180 سے زائد تعلیمی ادارے اِس تحریک میں
شامل ہو گئے۔ 30 ستمبر تک یہ تعداد بڑھ کر 300 سے تجاوز کر گئی جبکہ اب اِس میں
شامل اِداروں کی تعداد 400 سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ اِس انقلاب کے ساتھ فرانس دنیا
میں پھیلنے والی تیسری انقلابی لہر کے ہراول دستے میں شامل ہو گیا ہے۔ اِس عالمی لہر
کی نمایاں مثالوں میں نیپال میں عوامی تحریکیں، اسپین میں ’’رہائش کا انقلاب‘‘، امریکی
ریاست منیسوٹا میں آئی سی ای (ICE) کو شکست اور امریکہ میں ’’نو کنگز‘‘ کی
بادشاہت نامنظور تحریک، کیوبا اور وینزویلا کی آمریتوں کے خلاف جدوجہد، یونان،
بلغاریہ، سربیا، بولیویا اور ترکی میں عوامی احتجاجی تحریکیں، یمن میں حوثیوں کی
فتوحات، ایران کے ہاتھوں امریکہ اور اسرائیل کی شکست، جنوبی کوریا، جارجیا،
انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور شام میں عوامی تحریکیں، تیسری انتفاضہ میں فلسطینی
مزاحمت، اور ڈونباس میں یوکرینی قومی آزادی کی فوج کی جانب سے ’’آپریشن
ویوالدی‘‘ شامل ہیں۔ فرانس، اسپین اور یوکرین کے انقلابات نے یورپ کو عالمی طبقاتی
جدوجہد کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
بحران کا شکار سامراجی ریاست، انقلابات کے جھٹکوں سے لرزاں
فرانس ایک سامراجی ریاست ہے جو گزشتہ آٹھ برسوں سے پے در پے فروری انقلابات
کے جھٹکوں سے لرز رہی ہے۔ فروری انقلابات سے مراد ایسی سرمایہ داری مخالف
انقلابی تحریکیں ہیں جو سیاسی نظام میں تبدیلیاں لاتی ہیں اور حکومتوں کو گرا دیتی ہیں۔
تاہم، اِن انقلابات کو انقلابی قیادت میسر نہیں ہوتی۔ چنانچہ بنیادی مسائل حل ناں ہونے کے
باعث یہ بار بار سر اُٹھاتے ہیں۔ 2018ء کے اواخر میں فرانس میں ایندھن پر ٹیکسوں
میں اضافے نے زرد صدریوں کی احتجاجی تحریک (Movement Vest Yellow) کو
جنم دیا۔ اِس تحریک نے خود کو ایک ایسی عوامی تحریک کے طور پر پیش کیا جو
ازخود اُبھری تھی اور جو اُفقی بنیادوں پر منظم تھی اور جس کی کوئی مرکزی قیادت

نہیں تھی۔ اس تحریک کی نمایاں خصوصیات میں ہر ہفتے ہفتے کے روز ہونے والے
بڑے پیمانے کے مظاہرے، گول چکروں کی ناکہ بندی اور سماجی ذرائع ابلاغ کے
ذریعے احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنا شامل تھا۔
ایک اور فروری انقلاب مارچ اور اپریل 2023ء میں دیکھنے میں آیا جب میکرون اور
لیکورنو کے پنشن اصلاحاتی قانون کے خلاف زبردست عوامی تحریکیں اُبھریں۔ اِن
تحریکوں نے گزشتہ چالیس برسوں کے دوران ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کی سب
سے بڑی لہروں میں سے ایک کو جنم دیا جس کا نعرہ تھا’’میکرون استعفیٰ دو!‘‘
ایک اور فروری انقلاب جولائی 2023ء میں برپا ہونے والی بغاوت تھی جو سترہ سالہ
فرانسیسی نژاد الجزائر نوجوان نوئل ایم (Nahuel M.) کے ایک پولیس اہلکار کے
ہاتھوں قتل کے بعد پھوٹ پڑی۔ اس واقعے نے ایک زبردست عوامی تحریک کو جنم دیا۔
اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ 18 ستمبر 2025ء کو پیش آیا جب جنرل کنفیڈریشن آف
لیبر (CGT) نے آٹھ بڑی مزدور یونینوں کے ساتھ مل کر میکرون اور لیکورنو کی
کفایت شعاری کی پالیسیوں کے خلاف دس لاکھ سے زائد افراد کو متحرک کیا۔
ان انقلابات نے فرانس کی فرسودہ اور زوال پذیر سامراجی سرمایہ دار ریاست کو اس حد
تک ہلا کر رکھ دیا ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں پانچ وزرائے اعظم کو اپنے عہدوں
سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ گویا اوسطاً ہر نو ماہ بعد ایک نیا وزیرِاعظم آتا رہا ہے۔ مئی
2022ء میں عہدۂ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے والی الیزابت بورن نے پنشن اصلاحات اور
قانونِ امیگریشن کے خلاف احتجاجی تحریکوں کے باعث جنوری 2024ء میں استعفیٰ
دے دیا۔ ان کے بعد گیبریئل اَتال نے عہدہ سنبھالا لیکن ستمبر 2024ء میں انہیں بھی
استعفیٰ دینا پڑا۔ ان کے بعد مشیل بارنیئر وزیرِاعظم بنے مگر دسمبر 2024ء میں صرف
ایک ماہ بعد ہی اُنہوں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ پھر فرانسوا بایرو نے یہ منصب سنبھالا
لیکن ستمبر 2025ء میں اُنہیں بھی مستعفی ہونا پڑا۔ ان کی جگہ موجودہ وزیرِاعظم
سیباستیان لیکورنو نے لی جن کی حکومت بھی اب اِنہدام کے دہانے پر کھڑی ہے۔ فرانس
میں حکومت کی یہ عدم استحکام کی کیفیت محنت کشوں اور عوام کے پے در پے
انقلابات کا نتیجہ ہے جو مسلسل سیاسی نظام اور ریاست پر ضربیں لگا رہے ہیں۔
مقتدرہ، یورپی یونین اور یورپی مرکزی بینک کی سامراجی ریاست کے
خلاف سیاسی انقلاب
ثانوی اسکولوں کے طلبہ کی جانب سے تعلیمی حالات کے بارے میں کی جانے والی
شکایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی بحران کی ضربیں سہتے ہوئے سرمایہ دارانہ
فرانس زوال اور انہدام کا شکار ہے۔ اِس بحران کی سب سے شدید ضرب غریب ترین

محلّوں کے اسکولوں پر پڑتی ہے اور نوجوانوں کا انقلاب سرمایہ دارانہ نظام کے تحت
موجود سماجی نا ہمواری کو نشانہ بنا رہا ہے۔
’’سینٹ ڈینس میں بھی وہی سرکاری اسکول ہو جو پیرس میں ہے’’ ہنری چہارم اسکول
کے طلبہ یہ نعرہ لگاتے ہیں۔ اس اسکول میں نسبتاً زیادہ قوتِ خرید رکھنے والے
خاندانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پیرس کے نجی میسیوں ہائی اسکول میں
نوجوان اپنے ’’مراعات یافتہ’’ ہونے کا ذکر کرتے ہیں اور سینٹ ڈینس کے پال ایلوار ہائی
اسکول سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بینر اُٹھا کر مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس پوری تحریک کو
وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور تمام رائے عامہ کے جائزوں سے
ظاہر ہوتا ہے کہ 62 فیصد آبادی طلبہ کی اس تحریک کو جائز سمجھتی ہے۔
طلبہ یہ نعرہ لگا رہے ہیں ‘‘چھ سات کی نسل،مئی 1968ء کی تاریخ دُہرا رہی ہے‘‘
دوسری جانب جامعہ رین میں ہڑتال کرنے والے طلبہ نے یہ نعرہ تحریر کیا ہے’’کمیون
زندہ باد‘‘ یہ پیرس کمیون کی طرف اشارہ ہے جو تاریخ کی پہلی مزدور حکومتوں میں
سے ایک تھی۔
اس تحریک کی نوعیت نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور تارکینِ وطن کے حقوق کے
تحفظ کی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے۔ اِس کا اِظہار مختلف افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے
ممالک کے پرچموں کے ساتھ فلسطینی پرچم اٹھانے سے بھی ہوتا ہے۔
موجودہ تحریک اور 2018ء کی زرد صدریوں کی تحریک کے درمیان ایک نمایاں فرق
ہے۔ زرد صدریوں کی تحریک عالمی اِنقلابات کی دوسری لہر کا حصہ تھی۔ اِس تحریک
کا مزاج خود مختاریت پسند اور انارکسٹ تھا اور یہ مارکسزم اور سیاسی جماعتوں کی
مخالف تھی۔
لیکن اب طلبہ کی یہ تحریک ان جماعتوں یا تنظیموں کے خلاف دشمنی کا اظہار نہیں
کرتی جو خود کو مارکسسٹ کہتی ہیں اِس کے برعکس یہ اُن کے لیے کُھلی ہے اور
فلسطین کی حمایت میں جاری تحریک کا حصہ ہے۔
ہم اسپین میں احتجاجی دھرنوں میں بھی یہی رجحان دیکھتے ہیں۔ یہ دھرنے 15 ایم
تحریک سے ارتقا پذیر ہوئے ہیں جس کا مزاج خود مختاریت پسند اور اُفقی تنظیم کاری
پر مبنی تھا اور جو سیاسی جماعتوں کی مخالف تھی۔ لیکن اب پُوئرتا ڈیل سول میں ایسا
دھرنا دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی قیادت کرایہ داروں کی یونینیں کر رہی ہیں اور جس
میں سرخ پرچموں اور فلسطینی پرچموں کو لہرایا جا رہا ہے۔

یہ صورتِ حال عوامی شعور میں پختگی اور پیش رفت کے ایک ایسے عمل کی
موجودگی کو ظاہر کرتی ہے جو عالمی سیاسی انقلاب کا حصہ ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس
میں دنیا بھر کے عوام اپنی پرانی اصلاح پسند اور غدار سماجی و سیاسی تنظیموں سے
ناتا توڑ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوام میں خود تنظیم کاری اور اپنے دفاع کا عمل
بھی آگے بڑھ رہا ہے، اور غریب ترین محلّوں سے ’’سوویت طرز کی تنظیم کاری‘‘ کا
ایک گہرا عمل اُبھر رہا ہے۔
اشرافیہ، یورپی یونین اور یورپی مرکزی بینک کی سامراجی ریاست
کے خلاف انقلاب
فرانس اور اسپین میں جاری انقلاب یورپی سرمایہ داری کے خلاف ہے جس کی تجسیم
یورپی یونین (EU) یورپی مرکزی بینک(ECB) اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)
میں ہوتی ہے۔ یہ تینوں ادارے مل کر ’’ٹرائیکا‘‘ کہلاتے ہیں۔ یہ یورو زون کی اشرافیہ
اور یورپی سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں جو دولت کو چند ہاتھوں
میں مرتکز کر دیتا ہے۔
یہ انقلاب اِن حکومتوں کے خلاف بھی ہے جو بینکاروں اور بڑی کارپوریشنوں کے
مفادات کا دفاع کرتی ہیں اور اِس بات پر اِصرار کرتی ہیں کہ فرانس یورپی کارپوریشنوں
مثلاً بی این پی پریباس، کریڈٹ ایگریکول، ڈوئچے بینک اور بارکلیز کی جانب سے
جاری کردہ قرضی بانڈز کی ادائیگی کرے۔ ہمارے ملک میں پانچویں جمہوریہ کا نظام
ژاں لوراں بونافے، کرسچین دارنیا، برنار موراد، ژاں پال شیفلیے، فریڈریک اودیا اور
فلپ سیترن جیسے اشرافیہ کے افراد، بڑی کارپوریشنوں کے سربراہوں اور ارب پتی
بینکاروں کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے۔
فرانس کے طلبہ اور عوام کی جدوجہد اُن ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری ملازمین، ججوں،
اِداروں اور پانچویں جمہوریہ کی حکومت کے خلاف ہے جو حکمران طبقوں کے اشرافیہ
کے مفادات کی خدمت کرتی ہے۔ ان میں محلات کے درباری اور قومی انتظامی مدرسے
(ای این اے) کے فارغ التحصیل افراد شامل ہیں جو سی اے سی 40 میں شامل بڑی
کمپنیوں، لوئی ویتوں کے برنار آرنو، کینال پلس اور ویواندی کے وینسان بولورے یا فری
کے زاویے نیل کے لیے کام کرتے ہیں۔
لیکن عین اُس وقت جب فرانس کے عوام فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی (پی ایس) اور
فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی (پی سی ایف) جیسی اپنی پرانی قیادت سے ناطہ توڑ رہے ہیں
اور اِنتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹ نہیں ڈالنے اور انتخابی نتائج سے عدم اطمینان
کے ذریعے اپنی ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں تو ژاں لوک میلانشوں کی قیادت میں

بائیں بازو کے گروہ مثلاً لا فرانس اَنسومیز (ایل ایف آئی)، جو ترقی پسند انٹرنیشنل سے
وابستہ ہے موقع پرستانہ مہم کی حکمتِ عملی کے تحت اِس تنازعے کی حمایت کے لیے
آگے بڑھتے ہیں اور عوام سے ایک بار پھر بورژوا جمہوریت پر یقین کرنے کی اپیل
کرتے ہیں۔ جس کی ہم مذمت کرتے ہیں
لا فرانس اَنسومیز (ایل ایف آئی) کی اس تباہ کن پالیسی کی مذمت
کرتے ہیں جو انقلاب کا رخ انتخابات کی طرف موڑنے کی کوشش
کرتی ہے۔
ژاں لوک میلانشوں اور لا فرانس اَنسومیز (ایل ایف آئی) کے دیگر رہنما، مثلاً سینٹ
ڈینس کے میئر بالی باگایوکو جو خود بھی ایل ایف آئی کے رکن ہیں وہ طلبہ کی جدوجہد
میں اس لیے شامل نہیں ہو رہے ہیں کہ میکرون اور لیکورنو کی حکومت کا خاتمہ کیا
جائے اور محنت کشوں اور عوام کے مفادات پر مبنی حل کے لیے جدوجہد کی جائے۔
اس کے برعکس ایل ایف آئی کے رہنماؤں کی اس جدوجہد میں شمولیت کا مقصد فرانس
کی زوال پذیر اور سڑاند زدہ بورژوا جمہوریت کے بارے میں امیدیں اور خوش فہمیاں
پیدا کرنا ہے۔ وہ نوجوان کارکنوں کے پاس جا کر کہتے ہیں کہ اگر وہ اگلے انتخابات میں
ایل ایف آئی کو ووٹ دیں گے تو تبدیلیاں رونما ہوں گی جو محض ایک دھوکا ہے۔ اِس
حکمتِ عملی کا مقصد نوجوان کارکنوں کو پیچھے دھکیلنا اور اُنہیں انتخابات اور ووٹوں
کے صندوقوں اور پانچویں جمہوریہ کی سامراجی بورژوا پارلیمانی سیاست پر یقین
کرنے کی طرف مائل کرنا ہے۔
لا فرانس اَنسومیز (ایل ایف آئی) ایک بورژواء سرمایہ دارانہ اتحاد ہے جس کی قیادت
بورژواء طبقے کے مختلف دھڑے کرتے ہیں۔ یہ خود کو ’’بائیں بازو‘‘ کی جماعت ظاہر
کرکے عوام کو دھوکا دیتا ہے۔ ایل ایف آئی اسی غدارانہ، بورژواء اور سامراج نواز
پالیسی پر عمل پیرا ہے جسے اِس سے پہلے اسپین میں پودیموس اور یونان میں سریزا
نے اختیار کیا تھا اور جسے اس وقت امریکہ میں برنی سینڈرز اور اوکاسیو کورٹیز کی
سربراہی میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ (ڈی ایس اے) آگے بڑھا رہی ہے۔
یہ سب ترقی پسند انٹرنیشنل کے نمائندے ہیں جو ایک عالمی ’’ترقی پسند‘‘ اتحاد ہے۔ اس
اتحاد کو سامراجی امریکی محکمۂ خارجہ فروغ دیتا ہے اور فرانس میں ایل ایف آئی اسی
اتحاد کی نمائندگی کرتی ہے۔
ہم خود ساختہ ’’مارکسسٹ‘‘ یا ’’ٹراٹسکی نواز‘‘ گروہوں کی بھی مذمت کرتے ہیں جو لا
فرانس اَنسومیز (ایل ایف آئی) کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ ان میں سرکاری این
پی اے، لیفٹ پارٹی (پارٹی دو گوش — پی جی اور گوش ایکوسوشیالسٹ — جی ای
ایس) اور انڈیپنڈنٹ ورکرز پارٹی (پارٹی اوؤریے اندیپاندان — پی او آئی) شامل ہیں۔

مؤخر الذکر ایک ایسا گروہ ہے جس کی روایات لامبرتی رجحان سے وابستہ ہیں اور جو
ایل ایف آئی کے پارلیمانی ڈھانچے میں شریک ہے۔ ان گروہوں کا کردار ایک سرمایہ
دارانہ اتحاد کو ’’سوشلسٹ‘‘ یا ’’مارکسسٹ‘‘ رنگ و روغن فراہم کرنا ہے۔ ایل ایف آئی
نے فرانسوا اولاند اور اولیویے فور کی سامراج نواز فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی، بورژوا
جمہوریہ پسند گروہوں اور فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی (پی سی ایف) کے ساتھ اتحاد قائم
کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
ہمیں فرانس میں ایک انقلابی تنظیم تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو نئے کارکنوں کو اُن
تجربہ کار کیڈروں اور سرگرم کارکنوں کے ساتھ یکجا کرے جنہوں نے فرانسیسی بائیں
بازو کی پرانی اور بدعنوان تنظیموں سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ طلبہ کا انقلاب اس مقصد کو
آگے بڑھانے کا بہترین موقع ہے۔ اسی لیے ہم مارکس انٹرنیشنل اور مارکس فرانس کے
ساتھ مل کر آپ کو اِس انقلابی مارکسسٹ منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
اِس منصوبے کا آغاز انقلابات کی حمایت سے ہوا تھا اور اب یہ دنیا بھر کے رہنماؤں کو
عالمی سوشلزم کی جدوجہد کے لیے یکجا کر رہا ہے۔

تحریر: ڈان سمانتھا (پیرس)

Loading