Pakistan Archives - Asia Commune https://asiacommune.org/category/pakistan/ Equality & Solidarity Tue, 21 Oct 2025 06:02:05 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.1 https://asiacommune.org/wp-content/uploads/2025/05/cropped-New_Logo_02-32x32.png Pakistan Archives - Asia Commune https://asiacommune.org/category/pakistan/ 32 32 دریا سے سمندر تک ایک آزاد فلسطین کے لیے: ٹرمپ اور اسرائیل کے معاہدہ کی بدمعاشی نامنظو https://asiacommune.org/2025/10/21/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d9%85%d9%86%d8%af%d8%b1-%d8%aa%da%a9-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%81%d9%84%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/ Tue, 21 Oct 2025 06:02:03 +0000 https://asiacommune.org/?p=10868 ترجمہ:عمران جاوید انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ اور لیگ فار دی ففتھ انٹرنیشنل کا موقف دنیا بھرمیں فلسطینی عوام کی حمایت میں اضافے اور صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی مخالفت نیزایک بڑی عوامی تحریک نے سامراج کی معاہدے کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے کہ وہ ایک نئی لیکن غیر یقینی جنگ بندی کرادئے۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی عوامی تحریک کو کمزور کرنا اور صیہونیت کو دوسرے طریقے سے آگے بڑھنا ہے اور یہ سب فلسطینی قیادت کے ساتھ ایک رجعت پسندانہ معاہدے کی آڑ میں کیا جا…

The post دریا سے سمندر تک ایک آزاد فلسطین کے لیے: ٹرمپ اور اسرائیل کے معاہدہ کی بدمعاشی نامنظو appeared first on Asia Commune.

]]>

ترجمہ:عمران جاوید

انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ اور لیگ فار دی ففتھ انٹرنیشنل کا موقف

دنیا بھرمیں فلسطینی عوام کی حمایت میں اضافے اور صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی مخالفت نیزایک بڑی عوامی تحریک نے سامراج کی معاہدے کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے کہ وہ ایک نئی لیکن غیر یقینی جنگ بندی کرادئے۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی عوامی تحریک کو کمزور کرنا اور صیہونیت کو دوسرے طریقے سے آگے بڑھنا ہے اور یہ سب فلسطینی قیادت کے ساتھ ایک رجعت پسندانہ معاہدے کی آڑ میں کیا جا رہا ہے۔

ہم غزہ کی آبادی پر دو سال سے جاری روزانہ کی بمباری کے خاتمے اور مجرمانہ ناکہ بندی کے ممکنہ اختتام پر ان کی خوشی کو سمجھتے ہیں اوراس میں شریک ہیں۔ اس ناکہ بندی نے انہیں ایک خطرناک انسانی بحران سے دوچار کر رکھا ہے لیکن ہمیں سچ بولنا ہو گا یہ فلسطینی مزاحمت کی فتح نہیں ہے جیسا کہ مختلف تنظیمیں غلطی سے دعویٰ کر رہی ہیں حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

یہ جنگ بندی جزوی طور پر غیر معمولی طور پر توانا عالمی عوامی تحریک کا نتیجہ ہے اس کے علاوہ غزہ کی مایوس کن صورتحال کے قابو سے باہر ہونے کا خطرہ بھی ایک وجہ ہے لیکن حماس اور اسرائیل نے جس معاہدے پر دستخط کیے ہیں وہ امریکہ کی مسلط کردہ شرائط کے تحت مذاکرات کے ذریعے طے پایا ہے۔ اگر اس کے 20 نکات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ یہ خطے میں سامراج کی پالیسی کو قبول کرنے اور صیہونی قبضے کو جائز قرار دینے کی تجویز ہے۔

اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے سامراج کو قطر، مصر اور ترکی کا براہ راست تعاون حاصل تھا اور ساتھ ہی پوری مغربی سرمایہ دار اشرافیہ، عرب آمرانہ حکومتوں اور یہاں تک کہ روس اور چین نے بھی اس پر شادیانے بجائے۔

اگر سامراج اس معاہدے کو اس کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ناکام ہونے سے بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے علاوہ جو پہلے ہی مکمل ہونے کے قریب ہے۔ غزہ کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹونی بلیئر کی سرپرستی میں ایک کٹھ پتلی حکومت کے تحت ایک امریکی زیرِ انتظام علاقہ میں تبدیل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اس معاہدے میں اسرائیل سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ غزہ سے اپنی فوجیں مکمل طور پر واپس بلائے یا مغربی کنارے میں اپنی نوآبادیاتی پیش قدمی کو ختم کرے۔ البتہ اس میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر مسلح ہو جائے اور “غیر سیاسی” فلسطینی ٹیکنوکریٹ” اور “بین الاقوامی ماہرین” کی ایک نئی حکومت کی تشکیل میں رکاوٹ نہ بنے اور نہ ہی ایک غیر ملکی فوجی قوت کے قیام میں جو پٹی کا انتظام سنبھالے گی۔

عالمی تحریک کا اثر اور حکمران طبقات کا رویہ

یہ ایک حقیقت ہے کہ صیہونیت کے 7 اکتوبر کے حماس کے حملے کا نسل کشی کے ساتھ جواب دینے پر فلسطین کے حق میں ایک ایسی بین الاقوامی عوامی تحریک کا جنم ہوا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ عمل اپنے تاریخی مرکز یعنی بائیں بازو کے حلقوں سے آگے بڑھ کر دنیا کے اہم سامراجی ممالک میں پھوٹ پڑا ہے۔ یہ تحریک امریکہ میں بہت بڑی ہے جہاں مختلف یونیورسٹیوں میں ریڈیکل کیمپ لگائے گئے اور یہودی برادری کے اہم حصوں نے صیہونیت سے تعلق توڑ لیاہے۔ آسٹریلیا اور یورپ میں لاکھوں لوگوں نے مارچ کیا۔ یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ سامراجی ممالک کی بڑی ٹریڈ یونینیں اور سوشل ڈیموکریٹک جماعتیں اس تحریک سے لاتعلق رہیں یا درحقیقت انہوں نےاسرائیل کی حمایت جاری رکھی۔  مشرق وسطیٰ کے حکمران طبقہ (سوائے حوثیوں کے) اپنی عوام کو سڑکوں پر آ کر صیہونیوں اور ان مغربی ممالک کے خلاف ناکہ بندی کرنے سے سختی سے روکا جو اس “نسل کشی” میں ملوث فریق کو ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ گویا حکومتیں عوامی غصے اور جذبات کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور عوام کو قابو کر رہی ہیں۔ کئی سامراجی ممالک میں فلسطینی تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی اور ہزاروں مظاہرین کو مجرم قرار دیا گیا یا یہاں تک کہ دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ تحریک بڑھی اور اٹلی میں حالیہ عام ہڑتال اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی جو السمود عالمی فلوٹیلا سے اظہار یکجہتی میں کی گئی تھی اس نے دنیا کو حیران کر دیا اور ایک ایسی مثال بننا شروع ہو گئی جو پھیل سکتی تھی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ساری دنیا کی سرمایہ دار ریاستوں کی حمایت کے باوجود عالمی عوامی حمایت کھو چکے ہیں ۔ یہ وہ سب سے اہم نتیجہ ہے جو فلسطینی مقصد نے حاصل کیا ہے۔ اسرائیل تاریخ میں اس سے پہلے کبھی بھی بین الاقوامی سطح پر اتنا الگ تھلگ، بدنام اور اتنی وسیع مذمت اور تنقید کا نشانہ نہیں بنا تھا۔

تاہم نسل کشی کے گہرا ہونے کے دو سال بعد بھی فلسطینی عوام 7 اکتوبر 2023 سے پہلے کی نسبت بہتر حالت میں نہیں ہیں۔ غزہ کو تباہ کر دیا گیا ہے اور صیہونیوں نے اس پر فوجی قبضہ کر رکھا ہے۔ کم از کم 67,000 فلسطینی جانیں ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں 20,000 بچے بھی شامل ہیں۔ دسیوں ہزار زخمی اور معذور ہو چکے ہیں۔ مغربی کنارہ صیہونی آباد کاروں کے ہاتھوں مسلسل علاقہ کھو رہا ہے اور مشرقی یروشلم میں زندگی تیزی سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

حماس کی حکمت عملی اور اس کے اثرات

حماس کے 7 اکتوبر کے اقدام نے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو “معمول پر لانے” کے عمل یعنی ابراہیمی معاہدوں  کو روکنے کا اپنا فوری مقصد حاصل کر لیا لیکن حماس کی یہ توقع کہ اسرائیل پر اس کے حملے سے ان کے ساتھ معاہدہ پر مذاکرات کے لیے کافی دباؤ پڑے گا وہ پوری نہیں ہو سکی۔ نہ ہی ایک وحشیانہ اسرائیلی ردعمل پرایران کی بھرپور طاقت سے جواب کی امید پوری ہوئی۔ یہ واضح ہو گیا کہ ملاؤں کا نظام صرف اپنے سرمایہ دارانہ اورطبقاتی مفادات کا دفاع کرتا ہے۔ عرب حکومتیں بھی فلسطین کی حمایت کرنے میں ناکام رہی ہیں اور موجودہ معاہدے کی حمایت کر رہی ہیں جو مزاحمت کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر کے اسرائیل اور سامراج کے ساتھ تعلقات کو “معمول پر لانے” کی راہ پر واپس لانا چاہتا ہے۔

حماس کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ نسل کشی، غزہ کی تباہی اورقبضے کی صورت میں نکلا ہے اور اب رعایتوں پر مبنی ایک ایسے معاہدے کی شکل میں سامنے آیا ہے جو 30 سال قبل عرفات کے اوسلو میں دستخط کیے گئے معاہدے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ عوامی تحریکوں کے دباؤ پر سپین اور برطانیہ جیسے کئی ممالک نے دو ریاستی حل کے فریب کو دوبارہ زندہ کیا ہے جس کا ذکر معاہدے میں ایک مقصد کے طور پر بھی نہیں کیا گیا ہے۔

صیہونیت کو شکست دینا ہی واحد راستہ ہے

جب تک فلسطین کی تاریخی سرزمین پر ایک نوآبادیاتی، توسیع پسند اور نسل کشی کرنے والی ریاست موجود ہے کوئی فلسطینی ریاست ممکن نہیں ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسرائیل کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دے گا۔ بلکہ اس کا اہم منصوبہ فلسطینی عوام کی مکمل نسلی صفائی اور زیادہ سے زیادہ علاقوں کو فتح کر کے ایک “عظیم اسرائیل” کی تعمیر ہے۔

امن حاصل کرنے کے لیے اور جوفلسطینی عوام اور خطے کے تمام لوگوں کے لیے دیرپا ںاور انصاف پر مبنی ہو ہمیں سب سے پہلے صیہونی عفریت اوراس کی جاری نوآبادیاتی توسیع کو شکست دینا ہو گا۔ جب تک سامراجیوں کے تحت خون میں ڈوبی دہشت گرد ریاست اسرائیل موجود ہے واحد ممکنہ امن قبرستانوں کا امن ہو گا۔

صرف دریا سے سمندر تک ایک واحد، آزاد، سیکولر اور سوشلسٹ فلسطین کی تعمیر ہی سے خطے کے لوگ امن کو دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں لیکن یہ حل نہ تو عرب سرمایہ داروں یا ایرانی ملاؤں کے ہاتھوں سے آئے گا اور نہ ہی کسی سامراجی طاقت کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے آئے گا۔ یہ صرف عرب محنت کش عوام کے ذریعے ممکن ہے جو ایک انقلاب کی قیادت کریں جو خطے کی سرمایہ دار حکومتوں کا تختہ الٹ دیں۔ صیہونی عفریت کو شکست دیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں سوشلسٹ جمہوریہ کی ایک رضاکارانہ فیڈریشن قائم کرے۔

۔1948 میں فورتھ انٹرنیشنل عالمی محنت کش طبقے کی تحریک کی واحد تنظیم تھی جس نے صیہونی ریاست کے قیام کے خلاف جدوجہد کی تھی۔

عرب ممالک کی بورژوا اور جاگیردار قیادت جو سامراج کے ایجنٹ ہیں ان کی وجہ سے ہم سامراج کے خلاف جدوجہد کے ایک مرحلے میں شکست کھا چکے ہیں۔ اب ہمیں اگلے مرحلے میں فتح کے لیے تیاری کرنی ہو گی یعنی فلسطین اور مشرق وسطیٰ کو یکجا کرنا ہوگا یہ مقاصد مشرق وسطیٰ کی متحد انقلابی پرولتاری پارٹی کو تعمیر کرکے ہی حاصل کیئے جاسکتے ہیں۔ آج بھی ہم اس حکمت عملی کے حامی ہیں جن تنظیموں نے اس بیان کی حمایت کی ہے۔ لہٰذا ہم ان مقاصد سے اتفاق کرنے والے لڑاکا ورکرز کو کسی فرقہ واریت کے بغیر اکھٹے اورمنظم کرتے ہوئے خطے میں انقلابی پارٹیوں کی تعمیر کرنے کی جدوجہد کا عہد کرتے ہیں

SOURCE:

https://socialist-resistance.org

Loading

The post دریا سے سمندر تک ایک آزاد فلسطین کے لیے: ٹرمپ اور اسرائیل کے معاہدہ کی بدمعاشی نامنظو appeared first on Asia Commune.

]]>
‘Azad’ Kashmir’s Unheard Rebellion: Voices from the People’s Struggle https://asiacommune.org/2025/10/19/azad-kashmirs-unheard-rebellion-voices-from-the-peoples-struggle/ Sun, 19 Oct 2025 16:53:34 +0000 https://asiacommune.org/?p=10809 [Over the past month, Pakistan-Administered Jammu and Kashmir (PAJK) have experienced one of the most significant waves of mass mobilisation in recent years. Triggered by rising electricity tariffs, increased taxation, and widespread economic hardship, the protests, which are led by the Joint Awami Action Committee (JAAC), have evolved into a broader movement advocating for social and economic justice through a 38-point Charter of Demands. The demonstrations have attracted participation from workers, students, traders, and ordinary citizens across the region, highlighting a pervasive discontent with systemic neglect and inequality. In this…

The post ‘Azad’ Kashmir’s Unheard Rebellion: Voices from the People’s Struggle appeared first on Asia Commune.

]]>

[Over the past month, Pakistan-Administered Jammu and Kashmir (PAJK) have experienced one of the most significant waves of mass mobilisation in recent years. Triggered by rising electricity tariffs, increased taxation, and widespread economic hardship, the protests, which are led by the Joint Awami Action Committee (JAAC), have evolved into a broader movement advocating for social and economic justice through a 38-point Charter of Demands. The demonstrations have attracted participation from workers, students, traders, and ordinary citizens across the region, highlighting a pervasive discontent with systemic neglect and inequality.

In this interview, Alternative Viewpoint speaks to grassroots activist Haris Qadeer, involved in the ongoing struggle. The discussion explores the political content of the demands, the state’s response, the composition of the movement, and the evolving role of the left in shaping its direction. The conversation also reflects on the resonance of regional and global protest waves—from South Asia to the Middle East and beyond—that have challenged neoliberal austerity and state repression.

The movement in PAJK serves as a powerful reminder that, even in the most militarised and marginalised regions, popular resistance can emerge with striking clarity and determination. – ed.]

Alternative Viewpoint : How is the current struggle related to earlier protest movements in Pakistan-administered Jammu Kashmir?

Haris Qadeer : Pakistan-Administered Jammu Kashmir (PAJK) is divided into two primary regions, each governed by distinct administrative structures, yet ultimately under the authority of Pakistan’s federal government. One of these regions is Gilgit-Baltistan, which has been designated as a semi-provincial entity through a presidential order. Historically, this area was administered under colonial-era laws, including the Frontier Crimes Regulation (FCR). The other region comprises the districts of Jammu Kashmir, historically shaped by the former princely state of Poonch and the Kashmir Valley. With its president, prime minister, supreme court, and various state institutions, this region functions as an independent state. Senior officials from Pakistan, along with the Ministry of Kashmir Affairs and Gilgit-Baltistan, effectively oversee both regions.

In the areas under the state government of PAJK, a tradition of struggle and protest dates back to 1932. Initially, the region witnessed the movement for the autonomy of the former Poonch state. Later, in the 1940s, when the sub-state of Poonch was brought directly under the control of the Maharaja of Jammu Kashmir and discriminatory taxes were imposed, a popular movement arose against the Maharaja’s autocratic rule and oppressive taxation. Even before the Indian subcontinent’s partition in 1947, this movement took a violent turn and transformed into an armed rebellion.

After Partition, the armed uprising in Poonch succeeded in gaining control over much of the region. Simultaneously, the newly established Pakistani state dispatched tribal militias from Muzaffarabad towards the state capital, Srinagar, with the aim of capturing the city. These militias advanced through Muzaffarabad, reaching Baramulla and the outskirts of Srinagar. Meanwhile, Maharaja Hari Singh of Jammu and Kashmir, along with the newly independent Indian leadership, began to move towards formal accession to India. The tribal invasion, alongside the indigenous revolt in Poonch, provided a pretext for the deployment of Indian troops and the signing of the Instrument of Accession.

The rebels of Poonch established a provisional government that was a democratic, representative, secular, and independent entity for the people of Jammu and Kashmir. The founding declaration also stated that a plebiscite would determine the political future of Jammu and Kashmir after its complete liberation.

With the arrival of Indian troops in Kashmir, Pakistan’s regular army subsequently entered the conflict to support the tribal forces. This escalation led to the Indo-Pakistani War, which, following a ceasefire, resulted in the permanent division of Jammu and Kashmir into two distinct parts.

This historical background shows that movements in this region are not new. The struggles have not only been directed against the autocratic rule of the Maharaja of Jammu Kashmir but also later against Pakistan’s control over the region. Once the government’s autonomy was undermined, and decision-making shifted to the central government in Pakistan, often exercised through migrant Kashmiri leadership settled in Pakistan, another rebellion broke out in Poonch in May-June 1950. A parallel government was established; afterwards Pakistani troops were sent to suppress it but failed spectacularly, and local rebels disarmed and captured the soldiers. The three-year-long uprising ended only after the government promised to form an election commission and hold representative elections, a promise that was never fulfilled.

In 1955, another rebellion broke out in Palandri (Poonch). This time, the Punjab Constabulary was deployed to crush it. An agreement known as the Baral Accord restored peace after two years of intense conflict and heavy sacrifices.

Subsequently, the local ruling elite crafted an official narrative portraying the region as the “base camp” for the liberation of Indian-administered Jammu Kashmir (IAJK). This pretext replaced the struggle for control over local resources, political autonomy, and fiscal rights with the rhetoric of liberating IAJK. However, the idea of establishing a united, independent Jammu Kashmir, an unfinished mission since 1947, remained deeply rooted within the popular consciousness.

At the local level, struggles for basic rights and autonomy persisted. While the movement for total national liberation remained prominent, the abrogation of Article 370 by India on 5 August 2019 prompted both progressive and nationalist leaders to shift their focus towards securing self-rule within PAJK as a means of furthering the broader freedom struggle. The ineffectiveness of depending on imperialist powers and institutions, such as the UN and the US, became increasingly apparent, especially following the meetings between Modi, Trump, and Imran Khan in 2019, which coincided with India’s decision to revoke Kashmir’s special status.

A segment of the Left has long sought to organise the national liberation struggle along class lines, despite facing criticism from nationalist circles. Nationalists frequently dismissed efforts to address fundamental issues such as the rising prices of basic goods, power load-shedding, and unjust taxes as mere distractions. However, a significant shift began to occur after 2019. Class-based struggles gained momentum, leading to the formation of Action Committees and United Fronts.

After the pandemic, this trajectory gradually converged into a more organised framework under the “Awami Huqooq Tehreek” (People’s Rights Movement), which was centred around a charter of demands. Launched in August 2022, the movement entered a new phase on May 9, 2023. Through long sit-ins, demonstrations, shutter-downs, and wheel-jam strikes, it eventually grew into a statewide movement by September 2023. A 30-member Joint Awami Action Committee (JAAC) was formed as the central leadership, followed by the establishment of local-level action committees across the district level or even at the ward level.

The movement’s central demands were to gain control over locally generated hydroelectric resources, ensure access to hydropower at production cost, and abolish unjust taxation. Additional significant demands included the restoration of wheat subsidies and the removal of privileges held by the ruling elite. The Charter of Demands sought to progressively move towards sovereignty and resource ownership, aiming to rebuild the national liberation movement along class lines.

The forces of the left began to intervene in these movements, while reactionary right-wing forces and state interference intensified. The ad hoc central leadership of the movement largely consisted of second-tier nationalists and representatives of local small-scale trader associations, who found it challenging to grasp the full depth and radical potential of the movement. The right-wing leadership worked in collaboration with the state, aiming to dilute its anti-colonial character. Consequently, the leadership sought to uphold the movement’s “apolitical” stance, implementing standard operating procedures to restrict ideological debate and even discouraging all forms of criticism, including that aimed at colonial structures.

As a result, the movement has now divided into two distinct trajectories; essentially, we can identify a sub-movement within the larger movement. In summary, the current struggle not only continues the legacy of prior movements but also surpasses the articulated charter and limited demands set by its leadership, indicating a more profound and radical evolution of political consciousness in the region.

What are the main demands in the 38-point Charter of Demands?

On September 29, 2025, the movement entered its second or third phase, marked by lockdowns, mass protests, and long marches aimed at addressing the 38-point Charter of Demands.

In May 2024, following a lengthy march, the government agreed to set the electricity price between Rs. 3 and Rs. 6 per unit and to reduce the price of flour by Rs. 1,000 per 40 kg bag. However, other agreed-upon demands were not implemented. A subsequent agreement in December 2024 also went unfulfilled. After the deadline for this agreement expired, a significant public meeting held in Muzaffarabad in May 2025 led to the expansion of the Charter to include new demands such as:

  • Abolition of the 12 legislative seats reserved for Kashmiri refugees settled in Pakistan.
  • Abolition of the 19% job quota reserved for these refugees.
  • Free education and healthcare for all citizens.
  • Ending privileges and perks for the ruling elite.
  • New agreements on hydropower projects with the Muzaffarabad government.
  • Transparency in governance and eradication of corruption.
  • Restoration of student unions.
  • Empowerment of local governments.
  • Construction of tunnels, bridges, and roads to improve transport and connectivity.

While the public narrative highlighted that the movement sought to dismantle the colonial order and reclaim the region’s rights to self-governance, the Charter of Demands did not specifically articulate a direct appeal for decolonisation or sovereignty.

Could you elaborate on the nature of the current struggle? What is the current situation? Have there been any incidents involving arrests, violence, or intimidation?

I believe that in recent days, some truly extraordinary events have unfolded in this region—events that, in terms of popular participation and political maturity, may even surpass the recent significant upheavals in Nepal, Bangladesh, and Sri Lanka. For instance, in all ten districts of Jammu Kashmir under Pakistani administration, hundreds of thousands of people have taken to the streets. For five consecutive days, daily life was effectively brought to a standstill; individuals refrained from driving vehicles, businesses across all towns and cities remained closed, and massive demonstrations were held in numerous locations.

Pakistan deployed a significant number of police and paramilitary forces to suppress the protests. To halt the long march, security forces resorted to repression and violence. Nevertheless, the protesters managed to overcome the security forces, compelling them to lay down their weapons. Following their surrender, the protesters ensured the safe return of the subdued forces. Under the direction of the state, thugs affiliated with the ruling party, operating under police supervision, launched an armed attack on demonstrators in Muzaffarabad, disguised as a “peace march”. The gunfire from these armed individuals led to the death of one young man and injuries to dozens of others. Despite this violence, the protesters maintained their focus on the demonstrations and refrained from engaging in vandalism or rioting.

Only one significant incident throughout these five days could be characterised as violent: in Dhirkot, a suburb of the Bagh district that connects Poonch and Muzaffarabad, police opened fire and shelled the protesters who were trying to advance. This confrontation resulted in five fatalities and over 150 serious injuries, primarily among police personnel. Additionally, police vehicles were set ablaze at the scene.

Overall, during those five days, there were ten fatalities and over 300 injuries. Despite this, the protests did not escalate into a violent movement. Thousands of demonstrators gathered at the entrance to Muzaffarabad, the capital, and held a sit-in that persisted until October 4, when the leadership of the Joint Action Committee (JACC) declared that their demands had been met.

At its core, this movement is anti-colonial and anti-neoliberal, deeply rooted in the grassroots of society. However, the leadership appears to lack full awareness of this character. Similar to traditional trade-union leadership, they often settle for partial concessions after each round of struggle, merely preparing for the next phase, without fully recognising the broader transformative potential of the movement.

Which social groups, such as workers, students, women, peasants, and unemployed youth, are most actively participating in the protests? Additionally, how has the government responded to the ongoing struggle?

To comprehend the situation, it is essential to examine the demographic and economic makeup of the region. Generally, this movement has engaged various segments of society. The area functions predominantly as a consumer society, heavily reliant on remittances sent by migrant workers residing in Europe, America, Africa, and the Middle East. Of the total population, which stands at 4.5 million, approximately 1.5 to 1.8 million are migrant workers abroad. The government employs approximately 100,000 individuals. The peasantry is notably sparse, and the lack of factories and industries means there’s no organised working class in the region. The private sector employs about 300,000 people across small businesses, banks, private schools, and hospitals, frequently paying wages that fall significantly below the legal minimum. Furthermore, both public and private sector employees are prohibited from forming trade unions.

Because of these conditions and the dependence on remittances, a petty-bourgeois or middle-class psychology dominates the society. Consequently, the movement’s nature is popular rather than class-based. Participation from rural areas has been particularly strong. Many participants are unemployed youth, who, because of remittances from family members abroad, can afford to engage full-time in political activities. Thus, a large number of students and young people have taken part in this movement.

Due to the persistence of patriarchal and tribal attitudes, women’s participation in the movement has been limited. Despite their high education levels, women primarily organised separate demonstrations during the early stages. However, on social media, they have played an active and vocal role in shaping the movement’s discourse. In physical protests, their participation has remained minimal; nonetheless, we witnessed unprecedented involvement from women in providing food and other supplies along the route of the long march, along with their crucial solidarity.

The government has taken extensive measures to suppress the movement, with over 500 legal cases filed against activists. The substantial involvement of Pakistan’s intelligence agencies has shaped much of the state’s response. Additionally, a systematic campaign of propaganda and psychological manipulation is currently in progress. It appears that the leadership has been pressured to isolate left-wing and nationalist forces from active participation in the struggle, a tactic aimed at undermining the movement’s anti-colonial character.

Could you provide a brief description of the Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee (JAAC) and its activities?

The Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee (JAAC) serves as the central coordinating body of the movement. Comprising 30 members, it includes three representatives from each of the ten districts. The committee’s primary activities focus on organising small-scale grassroots conferences at both the village and local levels. More than 200 conferences have taken place over the past two years, drawing thousands of participants. In addition to numerous smaller demonstrations, shutdowns, and wheel-jam strikes throughout the region, the JAAC has initiated three major mass protests to date.

Why are there protests regarding the reserved seats for refugees?

The Legislative Assembly of Pakistan-administered Jammu Kashmir comprises 53 seats, of which 12 are allocated for refugees from Jammu Kashmir who migrated to Pakistan during the 1947 conflict and are now settled across various provinces. The Government of Pakistan oversees the elections for these seats, which represent approximately 450,000 registered voters. Additionally, the government allocates 19% of its job positions for these refugees.

The protests arise for several reasons:

  1. Pakistan uses these reserved seats to reinforce its colonial control over the Muzaffarabad government. Through these assembly members, the Government of Pakistan can easily engineer internal changes, forming or toppling governments at will, a practice that has occurred repeatedly in the past.
  2. The Karachi Agreement of 28 April 1949, signed between the Government of Pakistan and the Government of PAJK (Muzaffarabad), delineated the limits of the latter’s powers. Under this agreement, Pakistan retained authority over the administration of refugee rehabilitation and Gilgit Baltistan.
  3. The refugees were subsequently granted Pakistani citizenship and allocated lands within the country. They also pay taxes in various Pakistani provinces and benefit from representation in Pakistan’s own political institutions.

The protesters contend that assembly members, who do not contribute taxes to the Muzaffarabad government and operate outside its constitutional jurisdiction, lack the authority to legislate for the region. Consequently, the laws they enact do not apply to them.

Additionally, the 19% job quota allocated for these refugees is perceived as a direct infringement on local rights because it favours individuals who are neither residents nor taxpayers of the region. Protesters argue that this arrangement exemplifies the ongoing colonial subjugation disguised as a democratic process.

Could you tell us about the role of the Left in the current struggle?

The Left was the original initiator of this movement, but it currently exhibits fragmentation and fragility. A significant faction, the Stalinist nationalist Left, continues to extol the monarchical rule of the Maharaja. Additionally, there exists a small, opportunistic segment of the Left that entirely dismisses the national question. The Jammu Kashmir National Students Federation (JKNSF), the region’s first left-wing student organisation, along with a group of leftist activists who emerged from it, played a pivotal role in establishing the movement’s foundations. Despite this, the central leadership features only one member from the Left within JAAC, although numerous militant left-wing activists have garnered considerable popularity at the local level across various districts and areas.

Due to state pressure, the central government has been hesitant to adopt a left-wing programme. Nevertheless, leftist ideas continue to resonate strongly with the masses, particularly the demands for the establishment of a Constituent Assembly, the recognition of collective ownership of natural resources, the withdrawal of Pakistan’s lent officers, and the dismantling of the colonial structure reinforced by the 1974 Act and the Interim Constitution.

Do you observe any influence from the regional and global protests in this struggle?

Absolutely, regional and global protest movements have profoundly influenced this uprising. Among the most prominent slogans are calls for revolution and freedom. The events in Sri Lanka and the ongoing movements in the peripheries of Pakistan have shaped the current situation. Most recently, the wave of protests in Nepal significantly impacted events occurring between September 29 and October 4. Inspired by Nepal’s movement, people participated on a much larger scale than before, standing resolutely in the face of state repression and a barrage of gunfire.

What potential outcomes do you foresee arising from this movement? What long-term political impact might it have on PAJK?

This movement has fundamentally raised significant questions regarding the colonial structure of governance. It now appears increasingly unlikely that Pakistan’s state institutions will be able to sustain the region’s existing constitutional, political, and financial framework. The movement has profoundly shaken the status quo, leading to a loss of credibility for traditional political parties, particularly the local branches of Pakistani parties. Current and former members of the legislative assembly have become symbols of public disdain and contempt.

Even if this movement does not progress further, stabilising the existing political structure will prove extremely challenging. However, it is inevitable that the movement will persist, as genuine advancement cannot occur without dismantling the colonial framework.

How do you perceive the role of solidarity from Pakistan, India, and international groups? What are your expectations of them?

This region of Jammu Kashmir is situated on the periphery of Pakistan and remains a crucial part of the broader, unresolved question surrounding Kashmir’s political future. Despite the movement’s vibrancy, its ultimate success or a transition towards the abolition of the capitalist system relies heavily on the mobilisation of the working class and oppressed nationalities, particularly within Pakistan and the wider South Asian context. Consequently, solidarity from left-wing forces and the vanguard elements of the working class in both Pakistan and India, as well as the surrounding region, is of paramount importance.

Globally, solidarity from leftist movements, the international working class, and anti-colonial struggles is essential. To end colonial domination and neoliberal imperialist policies, it is crucial to defeat the capitalist system itself. The liberation of Jammu Kashmir remains unattainable as long as the capitalist states of Pakistan and India exist in their current forms; similarly, the liberation of other oppressed nationalities across the subcontinent cannot be realised within these confines. The dismantling of this artificial partition of the subcontinent, alongside the creation of a voluntary socialist federation of independent nations, represents the only viable path to ending national oppression and colonial exploitation, thereby enabling the construction of a truly humane society.

This struggle cannot succeed in isolation or through fragmented efforts. We must not only hope for solidarity; we must actively work towards building alternative revolutionary forces. A significant weakness evident in the current movements across the region is a lack of organised revolutionary leadership grounded in scientific socialist principles. Consequently, it is the historic responsibility of revolutionaries in this region to accelerate the establishment of such leadership, connect the ongoing struggles, dismantle every chain of capitalist oppression, and pave the way for a brighter future for humanity.

Author

SOURCE:

https://altviewpoint.in/azad-kashmirs-

Loading

The post ‘Azad’ Kashmir’s Unheard Rebellion: Voices from the People’s Struggle appeared first on Asia Commune.

]]>
ماحولیاتی تباہی: ایک سرمایہ دارانہ بحران https://asiacommune.org/2025/08/30/%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%a7%db%81%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d8%ad%d8%b1/ Sat, 30 Aug 2025 13:02:35 +0000 https://asiacommune.org/?p=9919 خیبرپختونخواہ، کشمیراورگلگت بلتستان کے بعد سیلاب اب پنجاب میں میں پہنچ گیا ہے۔ یہ تباہ کن سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ یہ سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار کا نتیجہ ہے۔ جس میں منافع کی ہوس کی وجہ سے وسائل کا بے دریغ استعمال  کیا جاتا ہے جو ماحول کو برباد کر تا ہے۔ سیلاب نے تباہی مچادی ہےاب تک 15 لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔25 افراد ہلاک ہوئے جبکہ پورے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے زائد ہوچکی ہے۔ دیہی غریب، ہجرت اور…

The post ماحولیاتی تباہی: ایک سرمایہ دارانہ بحران appeared first on Asia Commune.

]]>

خیبرپختونخواہ، کشمیراورگلگت بلتستان کے بعد سیلاب اب پنجاب میں میں پہنچ گیا ہے۔ یہ تباہ کن سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ یہ سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار کا نتیجہ ہے۔ جس میں منافع کی ہوس کی وجہ سے وسائل کا بے دریغ استعمال  کیا جاتا ہے جو ماحول کو برباد کر تا ہے۔ سیلاب نے تباہی مچادی ہےاب تک 15 لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔25 افراد ہلاک ہوئے جبکہ پورے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے زائد ہوچکی ہے۔

دیہی غریب، ہجرت اور معاشی تباہی

پنجاب میں سیلاب سے لاکھوں لوگ بے گھر اور اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہزاروں گھر، اسکول، صحت مراکز اور سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اس تباہی کا سب سے بڑا خمیازہ غریب اور محنت کش عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے جن کا پہلے ہی مشکل سے گزارا ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگ حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں اس لیے دیہات اور مزدور بستیاں فنڈز اور منصوبہ بندی کی عدم موجودگی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے بعد آنے والا مہنگائی کا طوفان ان کی رہی سہی معاشی حالت کو بھی تباہ کر دے گا۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں آنے والے سیلاب کے بعد اب پنجاب میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ جس کا سب سے زیادہ اثر پنجاب کے دیہی علاقوں پر پڑا ہے جہاں ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور لوگ بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ سیلاب زراعت پر منحصر لوگوں کے لیے معاشی تباہی لیاہے جو پہلے ہی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے غربت اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔

عالمی سرمایہ داری، گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج اور موسمیاتی تبدیلی

سرمایہ دارانہ نظام میں ہر کمپنی زیادہ سے زیادہ منافع کمانے اور منڈی پر کنٹرول کی دوڑ میں ہوتی ہے۔ یہ مسابقت قدرتی وسائل کے بے دریغ استحصال کا باعث بنتی ہے جس سے ماحولیاتی تباہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پام آئل کی صنعت اس کی ایک واضح مثال ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں جیسے یونیلیور، نیسلے اور پروکٹر اینڈ گینبل اپنی مصنوعات میں پام آئل کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتی ہیں۔ اس کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک میں وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی جاتی ہے تاکہ پام آئل کے باغات لگائے جا سکیں۔ اس سے نہ صرف جنگلی حیات ختم ہو رہی ہیں بلکہ یہ عمل کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی اضافہ کر رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا سبب ہے۔

اسی طرح بڑی کمپنیاں خاص طور پر توانائی، تیل اور گیس کے شعبے میں فوسل ایندھن (کوئلہ، تیل، اور گیس) کا بے تحاشا استعمال کر کے بھاری مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتی ہیں۔ یہ گیسیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جس کے نتیجے میں موسموں کا قدرتی توازن بگڑ چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 100 بڑی کمپنیوں کا اخراج عالمی اخراج کا 70 فیصد ہے۔ اس بے لگام اخراج نے ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلایا ہے جس کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے اور سیلاب بار بار آرہے ہیں اور ان کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔

بھارت میں موسمیاتی تبدیلی اور پنجاب پر اثرات

پاکستانی پنجاب میں حالیہ تباہ کن سیلاب کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے جو خطے میں شدید اور غیر معمولی بارشوں کا سبب بنی ہے۔ بھارت کے مختلف ریاستوں خاص طور پر ہماچل پردیشاور،اتراکھنڈ،پنجاب،ہریانہ میں حالیہ دنوں میں ہونے والی تباہ کن بارشوں کے نتیجے میں ڈیمز میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ اس صورتحال میں سیلاب نے بھارت میں بھی خؤفناک تباہی پھیلائی۔ بھارت نے پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اپنے ڈیمز جیسے کہ ستلج دریا پر بنے بھاکڑا ڈیم کے دروازے کھول دیئے جس کی وجہ سے پاکستان کے پنجاب میں ستلج،چناب اور راوی دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی اورسیلاب آگیا۔ یہ صورتحال واضح طور پر یہ ثابت کرتی ہے کہ جہاں موسمیاتی تبدیلیاں عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاوس گیسوں کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں وہاں اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا اور خطے کو متاثر کرتے ہیں۔ بھارت میں ہونے والی بارشوں کا براہ راست اثر پاکستانی پنجاب پر پڑا ہے۔جس نے تباہی پھیلا رکھی ہے۔

حکمران طبقہ، دریاؤں اور قدرتی وسائل پر قبضہ

پاکستان میں سیلاب کی تباہی میں عالمی عوامل اہم ہیں لیکن قومی حکمران طبقہ بھی اس کا ایک اہم سبب ہے۔ یہ طبقہ سرمائے کے مفادات کی خاطر ایسی پالیسیاں بناتا ہے جو ماحول کو مزید تباہ کرتی ہیں۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن اور اس جیسی دیگر ہاؤسنگ سکیمیں کسانوں کو بیدخل کرکے دریاؤں اور ان کے اطراف کی زمین پر قبضہ کر کے ان کے فطری بہاؤ کو بدل دیتی ہیں۔ یہ تعمیرات سیلاب کے قدرتی راستوں میں رکاوٹ بنتی ہیں جس سے شہری اور دیہی علاقوں میں سیلاب کا پانی تیزی سے پھیلتا ہے۔ بحریہ ٹاؤن اسلام آباد اور کراچی کی حالیہ اربن فلڈنگ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اب ایس آئی ایف سی کے تحت نام نہاد گرین پاکستان انیشیٹو اور گرین ٹورازم کی آڑ میں قدرتی وسائل اور معدنیات پر قبضے کیے جا رہے ہیں اور ترقی کے نام پر مزید تباہی اور بربادی کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں۔

ٹمبر مافیا اور جنگلات کی تباہی

خیبر پختونخواہ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیلاب کی بڑی وجہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ٹمبر مافیا کو دہائیوں سے ریاستی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ پورے پورے پہاڑوں کو درختوں سے محروم کر رہے ہیں۔ درخت سیلاب کے پانی کو روکنے اور اس کی رفتار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں پانی کا بہاؤ تباہ کن ہو جاتا ہے جس سے سیکڑوں جانیں ضائع ہوتی ہیں اور پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ حکمران طبقہ اس تباہی کے بعد اسے محض قدرتی آفت قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے مبرا ہو جاتا ہے۔

سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد ہی ماحولیاتی تباہی کو روک سکتی ہے

ماحولیاتی تباہی ایک طبقاتی سوال ہے۔اس لیے ماحولیاتی تباہی کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی اور قومی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد ضروری ہے۔ یہ جدوجہد محض ماحولیاتی قوانین بنانے تک نہیں ہونی چاہیے ہے بلکہ اسے طریقہ پیداوار اور منافع پر مبنی نظام کے خاتمے کی جدوجہد کرنی ہوگی۔ ہمیں عالمی سطح پر اس ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرنی ہو گی اور ان کمپنیوں اور ممالک سے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کا مطالبہ کرنا ہو گا اور قومی سطح پر ان منصوبوں کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی جو ترقی کے نام پر تباہی اور بربادی پھیلا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں منافع کی ہوس کو فطرت اور ماحول پر ترجیح ہوتی ہے اس لیے اس نظام میں ایسی تباہیاں آتی رہیں گئیں۔ ان تباہیوں کو عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد اور اس کے خاتمے سے ہی روکا جا سکتا ہے۔

Share this:

SOURCE:

https://socialist-resistance.org

Loading

The post ماحولیاتی تباہی: ایک سرمایہ دارانہ بحران appeared first on Asia Commune.

]]>
Government Employees’ Protest Continues: What’s Real Reason Behind It? Are Their Demands Legitimate? https://asiacommune.org/2025/08/09/government-employees-protest-continues-whats-real-reason-behind-it-are-their-demands-legitimate/ Sat, 09 Aug 2025 11:27:24 +0000 https://asiacommune.org/?p=9530 The post Government Employees’ Protest Continues: What’s Real Reason Behind It? Are Their Demands Legitimate? appeared first on Asia Commune.

]]>

Loading

The post Government Employees’ Protest Continues: What’s Real Reason Behind It? Are Their Demands Legitimate? appeared first on Asia Commune.

]]>
No to the oppression of the ruling classes of India and Pakistan ! In defense of the rights of the Kashmiri people! https://asiacommune.org/2025/05/25/no-to-the-oppression-of-the-ruling-classes-of-india-and-pakistan-in-defense-of-the-rights-of-the-kashmiri-people/ Sun, 25 May 2025 12:45:58 +0000 https://asiacommune.org/?p=8974 Writes from India Sagnik Mukherjee Amid the recent war-like tension brewing between India and Pakistan, both states have issued various statements. Following a sudden terrorist attack on tourists in Pahalgam, Kashmir, on April 22, 2025, which claimed 26 lives, the situation escalated into one resembling war. The Indian state, under the pretext of combating so-called “Islamic terrorism,” is preparing for military action. Similarly, the Pakistani state has historically supported the same kind of frustrated petty-bourgeois terrorism, often veiled in religious garb—because religious identity (not religion itself) proves most effective and…

The post No to the oppression of the ruling classes of India and Pakistan ! In defense of the rights of the Kashmiri people! appeared first on Asia Commune.

]]>

Writes from India Sagnik Mukherjee

Amid the recent war-like tension brewing between India and Pakistan, both states have issued various statements. Following a sudden terrorist attack on tourists in Pahalgam, Kashmir, on April 22, 2025, which claimed 26 lives, the situation escalated into one resembling war. The Indian state, under the pretext of combating so-called “Islamic terrorism,” is preparing for military action. Similarly, the Pakistani state has historically supported the same kind of frustrated petty-bourgeois terrorism, often veiled in religious garb—because religious identity (not religion itself) proves most effective and most misleading. The existence of such terrorism is essential to maintain the capitalist structure.

Now, specifically concerning the Kashmir region, history must be considered. Since the so-called independence of India (in reality, a transfer of power from British to Indian bourgeois hands), Kashmir has fallen prey to the innate expansionist tendencies of both Indian and Pakistani bourgeois states. Marxists are in favor of the right to self-determination for the Kashmiri people, for the immediate withdrawal of the armies and officials of Pakistan and India from Kashmir. In the face of bombings and military aggression from India or Pakistan, we support the right to self- defense of the Kashmiri people and their organizations, just as we defend the rights of the Palestinian, Ukrainian, Houthi, Tamil, Kurdish, or Catalan people against the attacks of the states that oppress them.

A brief review of the history of oppression of the Kashmir nation

Due to its not-easily-accessible yet geographically crucial location, Kashmir has historically witnessed numerous invasions and has been exploited by several rulers. Bourgeois historiography and academia have deliberately sought to trivialize this. The popular rage against Kashmir’s last king, Hari Singh, has never been interpreted from a class perspective—as a struggle against monarchy—but has been distorted and portrayed as ‘Muslim anger against a Hindu king’s Hindutva.’

This region saw the rise and fall of several kings and dynasties. Muslim traders and travellers ventured through this land seeking fortune, especially during the crusades. From Marco Polo’s note on ‘Saracens’ (black skins referring to Arabs or Muslims) in Kashmir, they were noted as being employed as butchers.

In 1320, Zulju or Dhu ‘I Qadr Khan invaded Kashmir. Mongols plundered and enslaved the people, burnt down buildings, and destroyed crops. In the words of Jonraja, “Kashmir presented a pitiful spectacle. Further pitilessly wailed and moaned when father fought his son. Brother separating from his brother lost him for ever…Depopulated, un¬cultivated, grainless and gramineous, the country of Kashmir”. (Asimov, History of Civilizations of Central Asia)

In 1752, the Durrani Empire seized Kashmir from the weakened Mughals. However, unlike Mughal emperors like Akbar and Jehangir, the Durranis and their lieutenants proved to be unenlightened rulers. They were only interested in extorting money, while the common masses lived in constant fear. Many locals were captured and sent as slaves to Afghanistan. Local economic activities that had developed over centuries collapsed completely. Due to the harsh tax regime, the shawl industry faced a severe depression. From 40,000 shawl looms during the Mughal Empire, the number dropped to just 16,000. It only revived under

British rule due to the growing demand for Kashmiri shawls in the European market—a trend that continues today. The Afghan rule ended with the rise of the Sikh Empire. In 1819, Ranjit Singh took over Kashmir. The Sikh rule was equally, if not more, ruthless than that of the Afghans. The Sikhs turned out to be equally unenlightened, bleeding the region dry with incessant tax demands. The masses groaned under this barbaric oppression.

Moorcroft’s quote on Durrani rule: “Every trade is taxed, butchers, bakers, boatmen, vendors of fuel, public notaries, scavengers, prostitutes, all pay a sort of corporation tax, and even the Kotwal, or chief officer of justice, pays a large gratuity of thirty thousand rupees a year for his appointment, being left to reimburse himself as he may.” The tax on peasants expropriated almost seven-eighths of the total produce.

In 1846, under the Treaty of Amritsar, the British sold the valley of Kashmir to a Hindu Dogra ruler, Gulab Singh, a stooge of the British Raj, making Kashmir one of the largest titular princely states in India, maintained as a “friendly fortress in debatable territory.” Gulab Singh was one of the staunchest allies of the British Raj. While the people starved, the ruler funnelled large sums of money to the British, which helped pay off arrears of soldiers stationed in Punjab. Maharaja Ranbir Singh even ordered his army to deny asylum to rebels. Those who managed to flee to Kashmir were arrested and handed over to the British—knowing well what fate awaited them.

Engels wrote: “The fact is, there is no army in Europe or America with so much brutality as the British. Plundering, violence, massacre — things that everywhere else are strictly and completely banished — are a time-honoured privilege, a vested right of the British soldier.”
(Frederick Engels; Details of the Attack on Lucknow)

The accumulated anger and discontent of the Kashmiri people against the royal family burst forth during the reign of the last king, Hari Singh. Pakistan—a newly born bourgeois state—exploited this rage for its own benefit. The abrupt accession of Kashmir to India, against the will of the Kashmiri people, trampled upon their right to self-determination. From then on, Kashmir has been a site of relentless conflict, devastating the lives of its inhabitants.

Even though the Kashmiri people were ripped off their rights of self- determination from the very beginning, they were given a special status as a part of Indian subcontinent. The Article 370 of Indian constitution conferred on it the power to have a separate constitution, state flag and autonomy of internal administration. That article was titled as ‘Temporary, transitional and special provisions’ in Indian constitution. The Kashmir constituent assembly were empowered to recommend the extent to which the Indian constitution would apply to Kashmir. This ‘temporary provision’ was intended to be applicable until the formulation and adoption of the state’s constitution. But the constituent assemble abruptly dissolved itself without abrogating or amending the article 370.

But this article along with article 35A got abrogated in 2019 by BJP government, revoking the special status of only muslim- majority state, Kashmir, occupied by the Indian state. The article 35A used to provide special rights and privileges to the permanent residents of Kashmir. As per this article ‘only’ permanent residents of Kashmir could ‘purchase lands and immovable properties’ and seek government employment in the state.

After striking down the articles, the real intentions of the Indian state got revealed through various laws. Now, in absence of the Domicile laws, any non-residents of Kashmir can buy property and lands in Kashmir. Land grab and snatching away all the resources and authority from the locals was the focal point of Indian state. Indian state now posseses the right to categorise any geographical location on Kashmir as a ‘strategic point’, giving ‘defence, sensitivity’ as excuse.

As a response to the mass movement in Kashmir in 2016-17, this step was a well concerted effort of all the bourgeois parties along with BJP to suppresses the voices of the people of Kashmir. In 2016-17, the subterranean unrest turned into a popular unrest. Even though Indian state reduced it portraying merely as a response to the Burhan Aftermath (Death of a militant), it was not so. Indian army responded by brutally clamping it down, imposing a draconian curfew. More than 90 civilians were killed, more than 15,000 were injured. Indian state has historically suppressed the voices of Kashmiri people and on the other hand Pakistan has utilised the Kashmir question for their own benefits.

The attacks on the people of Kashmir are then directed at the peoples of India and Pakistan.

The recent tension between the two states serves the ruling classes of both countries in different but complementary ways. India is on the verge of the Bihar election. This incident helps catalyse jingoism and exploit Islamophobia, creating fertile ground for the fascist propaganda of the BJP, which seeks to capitalize electorally.

On May 20th, various trade unions and farmer organizations had announced an ALL INDIA GENERAL STRIKE demanding the repeal of the four anti-labor codes passed by the central government. The war drums serve as a convenient distraction from that strike. By creating a war-like scenario, both states are imposing blanket restrictions on all mass gatherings, thus directly attacking the workers’ strike and other democratic movements.

Meanwhile, Pakistan’s economic condition is dire, teetering on the brink of bankruptcy. Consequently, state repression on the working class is intensifying. The mass movement rooted in the Baloch Liberation struggle had recently gained momentum and was growing in size. The war situation can be used to brutally suppress such movements.

Another key point is that on May 10th, the IMF (International Monetary Fund) approved a $1.4 billion loan to Pakistan.

In September 2024, under the Extended Fund Facility for Pakistan program, the IMF stated:
“Despite this progress, Pakistan’s vulnerabilities and structural challenges remain formidable. A difficult business environment, weak governance, and an ‘outsized role of the state hinder investment’, which remains very low compared to peers, while the tax base remains too narrow to ensure tax fairness, fiscal sustainability and meet Pakistan’s large social and development spending needs. In particular, spending on health and education has been insufficient to tackle persistent poverty, and inadequate infrastructure investment… Without a ‘concerted adjustment’ and reform effort, Pakistan risks falling further behind its peers.”

Again, on May 10th, 2025, the IMF stated in context of the loan:
“Pakistan’s policy efforts under the EFF have already delivered significant progress in stabilizing the economy and ‘rebuilding confidence’, amidst a challenging global environment…”

How capitalist terrorist IMF appropriates the economy of Pakistan for global capital under the guise of development is evident and historically, the IMF has done the same to various relatively underdeveloped and weak capitalist economies.

On May 10th, Trump tweeted that India and Pakistan had reached a ceasefire agreement, to be implemented immediately. It is laughable that imperialist America—who directly funds various terrorist organizations globally for profit, now issues calls for ceasefire. Recently, Trump also declared a high tariff policy to “save domestic industries”—a stark reflection of the crisis of capital. While seemingly a measure of relief, it could prove self-destructive. America maintains trade negativity by importing more, to ensure reverse capital flow into its own economy. But this policy could impact that flow, at least temporarily. By leveraging political stability and the crisis in other nations, the U.S. might patch that damage. Hence, the India-Pakistan conflict is advantageous for the U.S., as it can also destabilize China’s markets, a country currently witnessing growing workers’ movements in recent months.

This phony anti-war posture of the U.S. is nothing new. After the Israel-Palestine ceasefire, Israel continued its aggression while the U.S. took no steps against it. Similarly, even after a supposed ceasefire, Pakistan violated it and launched further attacks. Behind the official facade of a ceasefire, both countries will continue their aggression—crippling both states and devastating the people of Kashmir and surrounding regions.

CPI (M): A patriotic policy, working for India ruling class

The Indian government has never had the slightest concern for the development of Kashmiri people. Just like Kashmir, many northeastern states of India are denied even basic services. Superficial development is presented as real progress, while the core remains hollow. And in this crisis of capitalism, its condition is only worsening. To preserve this capitalist structure and the state machinery required to sustain it, India’s social democrats—CPI(M)—support participation in war under the pretext of “national defense.” But this is not the first time CPI(M) has historically supported the bourgeois state. One must not forget the opportunistic truce during World War I between Germany’s Social Democratic Party (SPD) and the bourgeois government, Burgfrieden, which Comrade Rosa Luxemburg opposed, writing in the Junius Pamphlet:

“The working class is being crucified between the two thieves: imperialism and social patriotism.” The CPI(M) believes that the issues of terrorism, funded and maintained by global capital, can be resolved without any material transformation. Their affinity for the state is not new. In the words of CPI leader S.G. Sardesai:

“India and its people detest war and aggression. They passionately love and desire peace…..The rulers of Pakistan are not only guilty of blatant and unprovoked aggression against India. They are guilty of doing incalculable damage to the future well-being of the people of both the countries.” (Kashmir: Defence, Democracy and Secularism, 1965)

To say the Indian state abhors war while Pakistan thrives on it only proves that CPI(M) continues to view war as a phenomenon disconnected from material conditions. In times of capitalist crisis, war becomes the only means of offering capital temporary relief—because war can stimulate demand. The ‘great’ social democratic theorist Bernstein didn’t even believe in the theory of capitalist crisis. According to him:

“The economic development of modern society tends more and more to soften the crises and the disharmonies of capitalism rather than to intensify them….this is not a sign of collapse but of adaptation.” (The Preconditions of Socialism and the Tasks of Social Democracy, 1899)

CPI(M) relies on this same opportunistic, revisionist theory to talk about “Socialism in the 21st century,” while simultaneously supporting wars that uphold bourgeois states. Whenever reformists have realized that even minimal labor rights reform is impossible without preserving this system, their rhetoric has not improved—on the contrary, it has veered further into petty-bourgeois territory, ultimately landing on identity politics. This petty-bourgeois degeneration of the party is also reflected in the simultaneous decline in working-class representation and the increase in petty-bourgeois influence.

As Marx said: “the democrat (that is, the petty bourgeois revolutionary) [comes] out of the most shameful defeats as unmarked as he naively went into them; he comes away with the newly gained conviction that he must be victorious, not that he or his party ought to give up the old principles, but that conditions ought to accommodate him”
(The 18th Brumaire of Louis Bonaparte, 1852)

All these events highlight the growing importance of a unified international working-class movement. They expose the fundamental unity of all bourgeois parties across nations and the bankruptcy of social democrats who, in times of capitalist crisis, increasingly rely on bourgeois structures.

Thus, we reject both the internal contradictions of bourgeois states and the liberal pacifist call for peace.

Loading

The post No to the oppression of the ruling classes of India and Pakistan ! In defense of the rights of the Kashmiri people! appeared first on Asia Commune.

]]>
ہیلتھ ورکرز کا پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا https://asiacommune.org/2025/04/15/%db%81%db%8c%d9%84%d8%aa%da%be-%d9%88%d8%b1%da%a9%d8%b1%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d9%85%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%ad/ Tue, 15 Apr 2025 14:07:28 +0000 https://asiacommune.org/?p=8760 تحریر:اظہر علی گرینڈ ہیلتھ الائنس کے تحت 7اپریل سے پنجاب اسمبلی لاہور کے سامنے محکمہ صحت کے ورکرز کا بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سینٹر کی نجکاری کیخلاف دھرناتین دن سے جاری ہے۔ اس میں پنجاب بھرسے ڈاکٹر، پیرامیڈیکل سٹاف، نرسز اوردیگر محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے ورکرز شریک ہیں۔دھرنے کے شرکاء کے مطابق ان کو افسران مختلف ہتکھنڈوں کے ذریعے ہراساں کررہے ہیں اور نوکریوں سے نکانے کی دھمکیاں بھی دئے رہے ہیں۔گرینڈ ہیلتھ الائنس نے 25مارچ کے احتجاج میں اعلان کیا تھا کہ اگرپنجاب حکومت نے…

The post ہیلتھ ورکرز کا پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا appeared first on Asia Commune.

]]>

تحریر:اظہر علی

گرینڈ ہیلتھ الائنس کے تحت 7اپریل سے پنجاب اسمبلی لاہور کے سامنے محکمہ صحت کے ورکرز کا بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سینٹر کی نجکاری کیخلاف دھرناتین دن سے جاری ہے۔ اس میں پنجاب بھرسے ڈاکٹر، پیرامیڈیکل سٹاف، نرسز اوردیگر محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے ورکرز شریک ہیں۔دھرنے کے شرکاء کے مطابق ان کو افسران مختلف ہتکھنڈوں کے ذریعے ہراساں کررہے ہیں اور نوکریوں سے نکانے کی دھمکیاں بھی دئے رہے ہیں۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس نے 25مارچ کے احتجاج میں اعلان کیا تھا کہ اگرپنجاب حکومت نے محکمہ صحت کی نجکاری کی پالیسی کو ختم نہیں کیا توپھر 7 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا ہوگا۔اس لیے 7اپریل کو پنجاب اسمبلی کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں ورکرز پنجاب بھر سے پہنچ گے۔یہ واضح ہے کہ ہیلتھ ورکرز تمام تر دھمکیوں کے باوجود اس دھرنے کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نیولبرل حکومت کی اس پالیسی کے تحت ہزاروں ملازمین کو آؤٹ سورسنگ کے ذریعے جبری طور پر نکالا جا رہا ہے۔ اس لیے یہ ہیلتھ ورکرز احتجاج کررہے ہیں۔پنجاب حکومت یہ سب آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے کررہی ہے لیکن یہ ویسے بھی اس حکومت کی ماضی کی تاریخ ہے کہ یہ نجکاری کی پالیسی کو جارحانہ طریقہ سے نافذ کرتی ہے تاکہ سرمایہ کے منافع اور لوٹ مار کے مزید مواقع پیدا کیئے جائیں،محکمہ صحت اور دیگر اداروں کی نجکاری اسی مقصد کے لیے کی جاری ہے جس میں ہزاروں ہیلتھ ورکرز کی نوکریاں خطرے میں ہیں اور جن کی نوکریاں بچ بھی جائیں گئیں ان کو انتہائی برے حالات میں کام پر مجبور کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت نے جناح ہسپتال لاہور کی آؤٹ سورس کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے اس کے علاوہ ہیلتھ ٹیچنگ سنٹراور میوہسپتال کی بھی نجکاری کی جا رہی ہے اوریہ تمام بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سینٹر کی آوٹ سورس کا منصوبہ رکھتی ہے۔یہ پہلے ہی 150بنیادی مراکز صحت کومریم نواز ہیلتھ کلینکس کے طور پر آؤٹ سورس کرچکی ہے اور اگلے مرحلے میں 1200کو آوٹ سورس کررہی ہے۔اس سب کی وجہ سے لاکھوں ہیلتھ ورکرز کی نوکریاں ختم ہوسکتی ہیں۔جس کی وجہ سے پہلے سے ہی انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے والے ہیلتھ ورکرز کی زندگی اجیرن ہوجائے گی۔
ہیلتھ ورکرز کے دھرنے کی دیگر محکموں کے ورکرز میں بھی حمایت موجود ہے کیونکہ وہ اس نیولبرل حکومت کی پالیسیوں سے تنگ اور باربار اس کے خلاف احتجاج میں بھی آرہے ہیں۔اسی وجہ سے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پنجاب کی قیادت کے علاوہ اس میں پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن (پپلا)،آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) اور پنجاب ٹیچرز یونین کی قیادت اس دھرنے سے یکجہتی کے لیے اس میں شریک ہوئے۔اس کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیاں اور تنظیمیں بھی شریک ہورہی ہیں۔
اگیگا کی قیادت کی طرف سے اس احتجاجی دھرنے میں شرکت اوریکجہتی بہت اہم ہے۔اب اگیگا اور گرینڈ ہیلتھ الائنس کو حکومتی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ حکمران طبقہ کے بڑے حملے کا مقابلہ کیا جاسکے۔اس لیے دھرنا ایک اہم قدم ہے لیکن اگر ہم نے حکومتی حملوں کو شکست دینی ہے تو ان کو یوٹیلیٹی سٹورز، پاکستان پوسٹ، پی آئی اے، واپڈا، ریلوےاوراس کے علاوہ نجی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں اور کسان تحریکوں کو بھی دھرنے میں شرکت کی دعوت دینی چاہیے ہے۔
اس وقت پنجاب سمیت ملک بھر میں آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے نوکریوں کے خاتمے،پنشن پر حملوں،اور نجکاری کے خلاف تحرک موجود ہے۔اس کے علاوہ بھی آئی ایم ایف کے دباؤ پر کٹوتیوں کے خلاف اور سامراجی و قومی سرمایہ کے مفاد میں حکومت جن پالیسییوں پر عمل پیراہے اس کی وجہ سندھ،کشمیر،گلگت بلتستان،پختونخواہ اور بلوچستان میں توانا تحریکیں ابھری ہیں۔اس صورتحال میں معاشی حملوں اور جمہوری پابندیوں کے خلاف لڑنے کے لیے ایک ملک گیر تحریک کی ضرورت ہے۔جس میں ہیلتھ ورکرز کا دھرنا اور دیگر تحریکیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔یہ مل کرہی اس نیولبرل حکومت کے حملوں کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔
حکومتی حملے کو روکنے کے لیے ہیلتھ ورکرز کا صرف دھرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کو کام کی جگہ پر منظم ہونا ہوگا اور وہاں ایکشن کمیٹیاں تشکیل دینی ہوں گئیں جہاں جمہوری بحث کے ذریعے جدوجہد کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے جس میں ہڑتال سمیت سنٹرز اور ہسپتالوں کو ہیلتھ ورکرز کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے ہے۔لیکن اس سب میں ایکشن کمیٹی کو ہڑتالی کمیٹی کو منتخب کرنا ہوگا جو دیگر محکموں کے ورکرز سے مل کران سے حمایت حاصل کریں لیکن اس کے ساتھ ان کو کام کی جگہ پر کمیٹیوں کی تشکیل کی ترغیب دیں جس میں حکمران طبقہ کے حملوں کے خلاف مل کرجدوجہد کا لائحہ عمل تشکیل دیا جاسکے۔ان کمیٹیوں کو ضلعی،صوبائی اور وفاقی سطح پر منظم ہونا ہوگا اور ان کمیٹیوں کو بورژواء سیاست سے آزادانہ طور پر کام کرنا ہوگا اسی طرح ایک عام ہڑتال کے ذریعے ہی ہم حکمران طبقہ کے حملوں کو شکست دئے سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہڑتال کو تب تک جاری رکھنا ہوگا جب تک حکومت کی نجکاری،نوکریوں کے خاتمے اور پنشن پر حملوں کی پالیسی کو شکست نہیں ہوجاتی ہے۔

Loading

The post ہیلتھ ورکرز کا پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا appeared first on Asia Commune.

]]>
ٹرمپ، پاکستان اور نیا عہد https://asiacommune.org/2024/11/30/%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be%d8%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%b9%db%81%d8%af/ Sat, 30 Nov 2024 03:28:44 +0000 https://asiacommune.org/?p=8246 امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے حکمران دانتوں میں انگلیاں دبائے امریکہ میں آئے اس سیاسی زلزلے کو دیکھ رہے ہیں اوراس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ واضح ہو چکا ہے کہ امریکی سماج تبدیل ہو چکا ہے اور عالمی تعلقات بھی ایک نئے عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی جہاں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی شکست ہے وہاں دنیا بھر کے حکمران طبقات کے لیے ایک معمہ بھی…

The post ٹرمپ، پاکستان اور نیا عہد appeared first on Asia Commune.

]]>

امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے حکمران دانتوں میں انگلیاں دبائے امریکہ میں آئے اس سیاسی زلزلے کو دیکھ رہے ہیں اوراس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ واضح ہو چکا ہے کہ امریکی سماج تبدیل ہو چکا ہے اور عالمی تعلقات بھی ایک نئے عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی جہاں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی شکست ہے وہاں دنیا بھر کے حکمران طبقات کے لیے ایک معمہ بھی ہے اور وہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات ان کے خطے اور ملک پر کس طرح مرتب ہوں گے اور وہ کیسے ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ چین کے سامراجی ابھار کو روکنا اور عالمی تعلقات میں اس کے کردار کو ختم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ یوکرائن جنگ کا خاتمہ کرتے ہوئے روس کے ساتھ تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے چین کے حصار سے باہر نکالا جائے اور اسے امریکہ کا اتحادی بنایا جائے۔ ٹرمپ کی خواہشات جو بھی ہوں لیکن یہ واضح ہے کہ امریکی سامراج ماضی کی نسبت کمزور ہو چکا ہے اور عالمی تعلقات میں پہلے جیسا طاقتور کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ یوکرائن میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک اور ذلت آمیز شکست ہو چکی ہے اور مغربی سامراجی ممالک کا یہ اتحاد بھی ٹوٹ رہا ہے۔ ٹرمپ اگر نیٹو سمیت دیگر دفاعی معاہدوں اور اداروں کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یورپی ممالک میں سیاسی ہیجان بڑھے گا اور ریاستیں مزید کمزور ہوں گی۔

دوسری طرف چین اور روس گزشتہ عرصے میں مزید قریب آئے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ سے لے کر وسطی ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ چین ابھی بھی امریکہ کے مقابلے میں ایک کمزور سامراجی طاقت ہے اور دفاعی اور مالیاتی اعتبار سے امریکہ سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کے علاوہ چین کا مالیاتی بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ در حقیقت امریکہ اور چین سمیت تمام سامراجی ممالک کی بنیاد پر موجود سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیر ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کے باعث ہی ان سامراجی طاقتوں کا بحران شدت اختیار بھی کر رہا ہے اور ان کو ایک دوسرے پر حملے کرنے پر بھی مجبور کر رہا ہے۔ ان تجارتی جنگوں اور پراکسی لڑائیوں سے یہ بحران کم نہیں ہو گا اور نہ ہی مستقبل قریب میں سرمایہ دارانہ معیشت کی بحالی کا کوئی امکان موجود ہے۔

اسی طرح جنوبی ایشیا میں ٹرمپ انڈیا کو اپنا سب سے اہم اتحادی بنانے کا خواہشمند ہے اور اسے چین کے خلاف دفاعی اور سٹریٹجک حوالے سے اہم کردار دینا چاہتا ہے۔ مودی اور ٹرمپ کے ذاتی تعلقات بھی بہت مضبوط ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد مبارکباد کی جو پہلی چند فون کالز وصول کیں ان میں سے ایک مودی کی بھی تھی۔ پچھلے صدارتی انتخابات میں مودی خود امریکہ جا کر ٹرمپ کے لیے جلسے منعقد کرتا رہا اور وہاں رہنے والے بھارتیوں کو ٹرمپ کو ووٹ دینے کی کمپین کرتا رہا۔ لیکن پچھلی دفعہ ٹرمپ کی شکست نے مودی کو نقصان پہنچایا تھا۔

اب یہ امکانات موجود ہیں کہ انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے یہ سربراہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید قریب لائیں گے۔ امریکی سرمایہ داروں کو انڈیا کی وسیع منڈی کی ضرورت ہے جہاں وہ بلا روک ٹوک اپنی اشیا فروخت کر سکیں، گو کہ انڈیا اپنے سرمایہ داروں کے دباؤ کے تحت پہلے بھی اپنی منڈی کو پوری طرح کھولنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ کے باعث بہت سے سرمایہ دار سستی لیبر کی تلاش میں انڈیا منتقل ہو رہے ہیں جس میں ایپل، ٹیسلا اور ایمازون جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے لیے مودی پہلے ہی مزدور دشمن قوانین جابرانہ طور پر مسلط کر رہا ہے تاکہ سرمایہ داروں کے منافعوں اور لوٹ مار کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان اور طاقتوں کا بدلتا توازن

اس صورتحال میں پاکستان کی معیشت، سیاست اور خطے میں اس کے کردار کے حوالے سے بہت سے سوالیہ نشان موجود ہیں۔ افغانستان میں جاری سامراجی جنگ میں امریکہ کی شکست اور فوجوں کی واپسی کے بعد سے پاکستان کو ملنے والی امداد میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے اور ملکی معیشت دیوالیہ پن کی نہج پر پہنچ چکی ہے۔ پچھلی دفعہ جب ٹرمپ صدر تھا تو امریکی فوجی افغانستان میں موجود تھے اور امریکی حکمران انخلا کے منصوبے بنا رہے تھے۔ اس وقت صورتحال کافی مختلف ہے اور ٹرمپ کے لیے فوری طور پر یہاں کوئی بڑا مفاد موجود نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی بربریت اور فلسطینیوں کا قتل عام اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں اور ٹرمپ اسرائیل کا بہت بڑا حمایتی اور مداح ہے۔

اسی طرح ایران کے حوالے سے وہ پہلے بھی جارحانہ اقدامات کر چکا ہے اور اس دفعہ بھی اس سے ایسی ہی توقعات کی جا رہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف ٹرمپ دنیا میں جنگیں ختم کرنے کے نعرے لگا چکا ہے۔ لیکن ٹرمپ کے تمام تر اقدامات اس کی خواہشات کے برعکس نکلنے کی امید زیادہ ہے۔

نظام کے زوال کے عہد میں نہ صرف جنگیں، خانہ جنگیاں اور پراکسی لڑائیوں میں اضافہ ہو گا بلکہ مالیاتی بحران اور کساد بازاری بھی شدت اختیار کرے گی۔ اسی طرح امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک سمیت دنیا بھر میں عوامی تحریکوں اور انقلابات کے ابھرنے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں اور آنے والا عرصہ سماجی اتھل پتھل اور انقلابات کا عہد ہے۔

ٹرمپ کے تمام تر فیصلے سرمایہ داری کو مضبوط کرنے، استحکام لانے اور امریکہ کو دوبارہ ”عظیم“ بنانے کی بجائے اس نظام کو مزید کمزور کرنے، عدم استحکام پھیلانے اور امریکی سامراج کے تیز ترین زوال کا باعث بنیں گے۔

ریاست کا بحران

پاکستان کی ریاست اور معیشت امریکہ سمیت مغربی سامراجی طاقتوں کے ساتھ ہزاروں تانوں بانوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ برطانوی سامراج کی تخلیق کردہ اس ریاست کو چلانے میں آج بھی مغربی سامراجی طاقتیں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ سامراجی گماشتگی کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کی امریکہ غلامی کے خلاف نعرے بازی کرنے والا عمران خان ٹرمپ سے رہائی کی امید لگائے بیٹھا ہے اور اس کے لیے اس کے بیرون ملک حمایتی عملی طور پر سرگرم بھی ہیں جبکہ دوسری طرف نواز شریف بھی الیکشن والے دن امریکہ میں موجود تھا۔

پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات بھی امریکہ کے ایما پر ہی استوار کیے گئے تھے اور آج بھی پاکستان کی معیشت اور ریاست کے بنیادی ستون امریکی سامراج کے ہی ماتحت ہیں۔ لیکن چینی سامراج کا مالیاتی اثر و رسوخ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں میں اس کی مداخلت بھی بڑھی ہے۔ دوسری طرف امریکی سامراج اور مالیاتی نظام کے بحران کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح خطے میں طاقتوں کا تبدیل ہوتا ہوا توازن یہاں کے سماج پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

پوری دنیا کے مختلف ممالک کے حکمران امریکہ چین تنازعے میں اپنے ملک کے سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے لیے محفوظ رستہ تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تنازعے میں کس کا پلڑا حتمی طور پر بھاری ہو گا۔ اسی لیے دونوں اطراف کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور دونوں طرف تعلقات استوار کیے جا رہے ہیں۔

کمیونسٹ اس تنازعے کے شدت اختیار کرنے کا تناظر کئی سالوں سے تخلیق کر رہے ہیں اور واضح کر رہے ہیں کہ اس لڑائی میں کوئی بھی فریق واضح برتری حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لیکن ساتھ ہی تیسری عالمی جنگ کا کوئی امکان موجود نہیں جس کی وجوہات پھر عالمی سطح پر طاقتوں کا توازن، جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور تمام معیشتوں کا ایک دوسرے پر انحصار سمیت دیگر عناصر ہیں۔

پاکستان کی ریاست اور معیشت اپنے آغاز سے ہی سامراجی جنگوں کے ساتھ منسلک ہو گئی تھی اور آج تک اس ملک کی مالیاتی بنیادوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت بھی یہاں کے حکمران کسی نئی سامراجی جنگ میں شمولیت اختیار کرنے کے حکم نامے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ پھر اسلحے اور مالی امداد کی مد میں اربوں ڈالر کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے۔ پاکستان کے حکمران صرف بھیک مانگ کر اور ملک کی جغرافیائی اہمیت کو فروخت کر کے ہی پیسہ کمانے کا ہنر جانتے ہیں۔ قدرتی آفات، ماحولیاتی تباہی اور دہشت گردی سمیت تمام ایشوز ان کے لیے محض دنیا سے بھیک مانگنے کا وسیلہ ہیں۔ صنعتی یا زرعی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ان کی ترجیح کبھی بھی نہیں رہی اور نہ ہی عالمی سرمایہ داری کے زوال میں یہ ممکن ہے۔

جنگوں میں سامراجی طاقتوں کی گماشتگی کرنے کے لیے جہاں فوج کے ادارے کو مضبوط کیا گیا وہاں ایسے رجعتی نظریات کا پرچار بھی کیا گیا اور ریاستی پشت پناہی میں ایسی قوتیں بھی تعمیر کی گئیں جہاں سے ان جنگوں میں خام مال بننے والی افرادی قوت بھی دستیاب ہو سکے۔ افغانستان میں ڈالر جہاد کے بعد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں بھی یہی افرادی قوت ریاست نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کی۔

اسی طرح اس ملک کے سرمایہ دار طبقے اور اس کی نمائندہ سیاسی پارٹیوں اور حکمرانوں نے بھی اسی پالیسی کو جاری رکھا اور پوری ریاستی مشینری اس مشن کے تحت استوار کی گئی۔ اس سامراجی منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے والی سیاسی قوتوں، مزدور و طلبہ تحریک کو جہاں غلط نظریات اوران کی قیادت کی غداریوں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا وہاں ریاستی اداروں اور حکمران طبقے نے بھی انہیں پوری قوت سے کچلا۔

لیکن آج یہ خونی کھیل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ سامراجی گماشتگی کرنے والی اس عوام دشمن ریاست کا حقیقی چہرہ عوام کے سامنے عیاں ہو چکا ہے اور آج یہ اپنے خونی پنجے علاج اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات پر گاڑ رہی ہے اور کروڑوں لوگوں کو بھوک اور بیماری کے ذریعے قتل کر رہی ہے۔ اس کی معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے اور ریاست کے تمام ستون ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں۔

آئینی ترامیم

ریاست کے بحران کا اندازہ پچھلے مہینے ہونے والی آئینی ترامیم سے لگایا جا سکتا ہے۔ امریکی الیکشنوں سے پہلے جلد بازی میں کی جانے والی یہ ترامیم بظاہر اسٹیبلشمنٹ کو مزید طاقتور کرتی نظر آتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی گرفت ریاستی اداروں بشمول عدلیہ پر مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کا خاتمہ جیسے اقدامات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے اور درحقیقت یہ فیصلے کرنے والوں کے مقاصد بھی یہی ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ ان اقدامات کے نتائج ان کو کرنے والوں کی مرضی کے الٹ نکلیں گے۔

عدلیہ کا ادارہ کمزور ہونے سے ریاست کا بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد اور اس سے انصاف کی امید کب کی ختم ہو چکی ہے اور جہاں نچلی سطح کی عدالتوں کی کرپشن اور لوٹ مار انتہاؤں کو چھو رہی ہے وہاں اب اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی کرپشن اور طاقتوروں کی کاسہ لیسی کے قصے زبان زد عام ہیں۔ ایسے میں انصاف کا یہ تماشا اب صرف تماشائیوں کے لیے کرتب دکھانے تک ہی محدود ہو گیا تھا یا پھر حکمران طبقے کی باہمی لڑائیوں میں ایک یا دوسرے دھڑے کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

اب سؤو موٹو جیسے اختیارات پر قدغنیں لگا کراس کے کرتبوں پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں اور اس کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن نتیجتاًیہ مزید بے قابو ہو جائے گا اور ریاست کے دیگر اداروں کی طرح اپنے انہدام کے سفر کو تیز کرے گا۔

اسی طرح حکمران طبقے کی باہمی لڑائیوں اور سماجی و مالی بحران نے فوج کے سربراہ کا عہدہ بھی کمزور کر دیا ہے اور اب آئینی طریقے سے اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غبارے کو پھٹنے کے لیے محض ایک چھوٹی سے نوکیلی چیز کافی ہوتی ہے جبکہ یہ سماج تو اس وقت کانٹوں سے بھرا جنگل ہے جس میں کوئی بھی چھوٹا سا واقعہ ان منصوبوں کو اپنے الٹ میں تبدیل کر سکتا ہے۔ پراجیکٹ عمران خان کی لانچنگ اور پھر اپنے آقاؤں کے لیے اس کے نتائج سے یہاں ہر کوئی آگاہ ہے۔ یہی کچھ موجودہ آئینی ترامیم اور حکمرانوں کے ساتھ بھی متوقع ہے۔

اس سماج کی کوکھ میں اس وقت بہت بڑی انقلابی تحریکیں پنپ رہی ہیں جو آنے والے عرصے میں سطح پر اپنا اظہار لازمی طور پر کریں گی۔ ابھی بھی کشمیر سے لے کر گوادر تک عوامی تحریکیں موجود ہیں اور پنجاب میں طلبہ کے احتجاجوں نے نئے عہد کی آمد کی اطلاع دے دی ہے۔ یہ عہد تضادات سے بھرپور ہو گا اور اس میں پرانے تمام سماجی رشتے، پرانی سیاست، پرانے ریاستی ڈھانچے اور بظاہر عقلی نظر آنے والے تمام مفروضے رد ہو جائیں گے اور نئے تعلقات اور سماجی رشتے ان کی جگہ ابھر کر سامنے آئیں گے۔ بوسیدہ اور فرسودہ نظریات رد ہو جائیں گے اور لاکھوں لوگ اس نئی دنیا کو سمجھنے اور اس کا تجزیہ اور تناظر بنانے کے لیے نئے نظریات کی جانب رجوع کریں گے۔

ایسے میں کمیونزم کا نظریہ ہی وہ واحد نظریہ ہے جو ایسے غیر معمولی حالات کا درست تجزیہ اور تناظر پیش کر سکتا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد میں کار بند جدلیاتی مادیت کا فلسفہ تضاد کو ہی اپنی بنیاد بناتا ہے اور ہر سماجی و فطری عمل یا سوچ میں موجود تضاد کو اس کے تمام پہلوؤں کو ساکت و جامد دیکھنے کی بجائے اسے ان کی حرکت میں سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر اس کے اگلے مرحلوں کی پیش گوئی کرتا ہے۔

اس سماج میں سرمایہ دار اور مزدور کا طبقاتی تضاد سب سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ سرمائے کی آمریت پر قائم اس نظام میں سب سے طاقتور یہاں موجود کوئی جرنیل یا جج نہیں بلکہ سرمایہ دار ہیں۔ بینکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان، مقامی اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور ذرائع پیداوار کی ملکیت رکھنے والے افراد۔ سیاستدان، ملٹری یا سول بیوروکریٹ اور جج محض اس طبقے کے نمائندے ہیں اور ان کے مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہاں پر تمام تر پالیسیاں بھی اسی طبقے کے مفاد کے لیے ترتیب دی جاتی ہیں۔

لیکن اس طبقے کی حاکمیت اب خطرے میں ہے کیونکہ ان کا نظام اب سماج کو ترقی دینا تو دور اسے موجودہ خستہ حالت میں بھی برقرار نہیں رکھ پا رہا اور لاکھوں لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔ اسی لیے اس طبقاتی سماج کا دوسرا فریق مزدور طبقہ اب حرکت میں آنے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ مزدور طبقہ جب انقلابی تحریک میں باہر نکلے گا تو صرف سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد نہیں کرے گا بلکہ ملکیت کے بنیادی رشتوں کو بھی اکھاڑنے کا آغاز کرے گا۔

بینکوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور تمام تر ذرائع پیداوار کی ملکیت مٹھی بھر سرمایہ داروں سے چھین کر اجتماعی ملکیت میں لے لی جائیں گی اور ملکیت کے اس نئے نظام کے لیے پھر نیا آئین اور قانون بنایا جائے گا اور اسی کی مناسبت سے ادارے تشکیل دیے جائیں گے جسے مزدور ریاست کہا جاتا ہے۔

انقلابی تبدیلی کے اس خوبصورت سماجی عمل کو سوشلسٹ انقلاب کا نام دیا جاتا ہے اور اسے کامیاب کرنے کے لیے ایک ایسی انقلابی پارٹی کی ضرورت ہے جو اس تمام عمل کی نظریاتی بنیادوں پر عبور رکھتی ہو اور مزدور طبقے کی وسیع پرتوں تک یہ نظریات پہنچا کر اسے اپنی صفوں میں منظم کر رہی ہو۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی یہاں ایسے ہی انقلاب کی تیاری کر رہی ہے جس کی کامیابی کے امکانات موجودہ عہد میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ تمام مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ فوری طور پر اس پارٹی کے ممبر بنیں اور اس انقلاب کی کامیابی میں اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔

Loading

The post ٹرمپ، پاکستان اور نیا عہد appeared first on Asia Commune.

]]>
ٹرمپ ازم کیا ہے؟ – RCP | انقلابی کمیونسٹ پارٹی https://asiacommune.org/2024/11/08/%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%d8%a7%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f-rcp-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8%db%8c-%da%a9%d9%85%db%8c%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%b9-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9/ Fri, 08 Nov 2024 01:28:11 +0000 https://asiacommune.org/?p=8134 |تحریر: برائس گورڈن، ترجمہ: ولید خان| امریکیوں کو یہ سننے کی عادت پڑ چکی ہے کہ ہر انتخاب ”ہماری زندگیوں کا اہم ترین (انتخاب) ہے“۔ اس سال دونوں امیدواروں نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بحث عام کر دی ہے کہ یہ انتخابات امریکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں۔ ”ٹرمپ کی حمایت یا مخالفت؟!“۔ دونوں بڑی پارٹیوں کی جانب سے اس سوال کو بقاء کا سوال بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن ٹرمپ ازم کیا ہے؟ اس سوال پر بہت زیادہ ابہام موجود ہے۔ اس بیماری…

The post ٹرمپ ازم کیا ہے؟ – RCP | انقلابی کمیونسٹ پارٹی appeared first on Asia Commune.

]]>

|تحریر: برائس گورڈن، ترجمہ: ولید خان|

امریکیوں کو یہ سننے کی عادت پڑ چکی ہے کہ ہر انتخاب ”ہماری زندگیوں کا اہم ترین (انتخاب) ہے“۔ اس سال دونوں امیدواروں نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بحث عام کر دی ہے کہ یہ انتخابات امریکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں۔ ”ٹرمپ کی حمایت یا مخالفت؟!“۔ دونوں بڑی پارٹیوں کی جانب سے اس سوال کو بقاء کا سوال بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن ٹرمپ ازم کیا ہے؟ اس سوال پر بہت زیادہ ابہام موجود ہے۔ اس بیماری کی درست تشخیص کیے بغیر یہ سمجھنا ناممکن ہے کہ امریکی سماج کی سمت کیا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

عدم استحکام کا عہد

ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک امریکی حکمران طبقے نے حیران کن سیاسی استحکام کے مزے لوٹے ہیں۔ لیکن صورتحال 2016ء میں تبدیل ہونی شروع ہو گئی جب عام انتخابات میں دہائیوں سے جاری معاشی گراوٹ اور طبقاتی غم و غصہ پھٹ کر سطح پر نمودار ہو گئے۔ معاشی قوم پرستی اور تارکین وطن، خواتین اور دیگر محکوم اقوام کے حوالے سے شاونسٹ شعلہ بیانی کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ معاشی بحالی کرے گا اور ”سب سے پہلے امریکہ“ ہو گا۔ اس نے اپنے آپ کو واشنگٹن اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ”باہر کا فرد“ بنا کر پیش کیا جو امریکی عوام کی بہتری کا خواہش مند ہے اور اس کے نتیجے میں اس نے ریپبلیکن پارٹی پر قبضہ کر کے اسے مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

لبرلز ٹرمپ کے ابھار کو غیر معمولی اور قابل تاسف حادثہ دیکھتے ہیں اور پریشان ہیں کہ ”آمریت کی جانب“ مسلسل بڑھا جا رہا ہے۔ اگرچہ کچھ اعتراف کرتے ہیں کہ اس نے حقیقی مایوسی کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے لیکن اسے عام طور پر ایک شاطر فرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو اکیلے ہی ملک کا جمہوری پردہ چاق کر سکتا ہے۔ لیکن سیاسی رجحانات آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔ ایک خیال کو ارتقاء پذیر ہو کر سماج میں جڑیں بنانے کے لیے در پیش مسائل کا حل سمجھا جانا ایک کلیدی عمل ہے۔

ٹرمپ کے ابھار کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سماج میں خیالات کیسے جنم لیتے اور اثر انداز ہوتے ہیں۔ کارل مارکس نے اس حوالے سے 1859ء میں اپنی کتاب ”سیاسی معیشت پر تنقید میں حصہ“ کے دیباچے میں لکھا کہ:

”اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے افراد سماجی پیداوار میں حصہ ڈالتے ہوئے ناگزیر طور پر ٹھوس تعلقات میں بندھ جاتے ہیں جو ان کی خواہشات سے بالاتر ہوتے ہیں یعنی پیداوار کی مادی قوتوں کے ارتقاء میں کسی بھی سطح کی مناسبت سے پیداواری تعلقات۔ ان پیداواری رشتوں کی کلیت سماج کا معاشی ڈھانچہ بناتی ہے، حقیقی بنیاد، جس پر ایک قانونی اور سیاسی بالائی ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے اور جس سے سماجی شعور کی ٹھوس شکلیں منسلک ہوتی ہیں۔ مادی زندگی کی پیداوار کا ذریعہ ہی سماجی، سیاسی اور دانشورانہ زندگی کے عمومی عمل کی تراش خراش کرتا ہے۔ یہ افراد کا شعور نہیں ہے جو ان کے وجود کا فیصلہ کرتا ہے بلکہ یہ ان کا سماجی وجود ہوتا ہے جو ان کے شعور کا تعین کرتا ہے۔ ارتقاء کے ایک مخصوص مرحلے پر سماج کی مادی پیداواری قوتیں موجودہ پیداواری رشتوں کے ساتھ ٹکراؤ میں آ جاتی ہیں یا اسی صورتحال کی قانونی اصطلاحات میں تشریح کی جائے۔۔ ان ملکیتی رشتوں کے ساتھ (ٹکراؤ) جو پہلے (موجودہ بالائی) ڈھانچے میں فعال تھے۔ پیداواری قوتوں کے ارتقاء میں معاون یہ تعلقات رکاوٹوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پھر سماجی انقلاب کا عہد شروع ہوتا ہے۔ معاشی بنیادوں میں تبدیلیاں جلد یا بدیر پورے دیو ہیکل بالائی ڈھانچے کی تبدیلی کا موجب بن جاتی ہیں۔“

یعنی خیالات آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔ وہ سماجی وجود کے عمل میں نمودار ہوتے ہیں جن کی مادی اور معاشی بنیادیں ہوتی ہیں۔ ٹرمپ نے ضرور امریکی سماج اور معاشی تعلقات میں موجود کسی ٹھوس چیز کو متوجہ کیا ہے جس نے اس کا پیغام زبان زدِ عام کر دیا ہے۔ بطور مارکس وادی ہمیں ہر صورت ”معاشی بنیادوں میں تبدیلیوں“ کی نشاندہی کرنی ہے جنہوں نے امریکی سیاسی بالائی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

ٹرمپ ازم: ارتقاء کی نصف صدی

دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سرمایہ داری پوری دنیا میں سب سے طاقتور سامراجی قوت بن کر ابھری۔ یورپ اور جاپان مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکے تھے۔ جنگ میں 3 کروڑ 65 لاکھ یورپی جبکہ 4 لاکھ 5 ہزار امریکی قتل ہو چکے تھے۔ یورپ کی سب سے طاقتور معیشت جرمنی کو 1890ء کی صنعتی پیداوار کی سطح پر دھکیلا جا چکا تھا۔ اس دوران امریکی صنعت پوری آب و تاب سے پیداواری عمل میں مصروف تھی۔

جنگ کے بعد سالہا سال امریکہ کا پوری دنیا میں بننے والی کل مینوفیکچرنگ میں 43 فیصد، اسٹیل میں 57 فیصد اور گاڑیوں میں 80 فیصد حصہ تھا۔ اس کے ساتھ نئی ٹیکنالوجیوں اور جنگی پیداواری ضروریات پوری کرنے کے لیے پیداواری قوتوں میں بڑھوتری نے سرمایہ دارانہ تاریخ کے سب سے خوشحال عہد کو جنم دیا جس کے ساتھ معیار زندگی میں شاندار بہتری ہوئی۔ صنعت دن رات فعال تھی، منافع بخش سرمایہ کاری کے وسیع ترین مواقع موجود تھے اور سرمایہ داری عمومی طور پر تیزی سے پھیل رہی تھی۔ 1945-46ء میں ایک دیوہیکل ہڑتالی لہر کے نتیجے میں بہتر اجرتیں اور سہولیات حاصل ہو گئیں اور عام امریکی محنت کشوں کو سماجی مراعات جیسے پینشن اور صحت انشورنس بھی میسر آ گئیں۔

اس عہد میں مینو فیکچرنگ اشیاء کی عالمی تجارت میں امریکی حصہ 1933ء میں 10 فیصد سے بڑھ کر 1953ء میں 29 فیصد ہو گیا۔ بیروزگاری کم تر سطح پر تھی، اجرتیں بڑھ رہی تھیں اور محنت کش آسانی سے مینوفیکچرنگ نوکریاں حاصل کر رہے تھے، جن کے ذریعے وہ گھر خرید رہے تھے اور خاندان بنا رہے تھے۔ 1946-73ء کے دوران حقیقی گھریلو آمدن میں 74 فیصد اضافہ ہوا اور امریکیوں کے لیے معیاری اور سستی رہائش، تعلیم، صحت، تفریحی وقت وغیرہ وغیرہ میسر رہے۔

ان سالوں نے امریکی محنت کش طبقے کے شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ کئی نسلوں میں یہ خیال پروان چڑھا کہ امریکی سرمایہ داری میں یہ حالاتِ زندگی ”معمول“ ہیں۔ آج بھی آپ کو پرانی نسلیں مل جاتی ہیں جو ماضی کو یاد کرتی ہیں کہ ”وہ اچھے دن“، ”جب ہم امریکہ میں اشیاء بناتے تھے“۔ کھانے کی جگہوں، ہائی اسکول فٹ بال کھیل، کوکا کولا اشتہارات اور نئے رہائشی مضافات کے نقوش ذہن میں ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ٹرمپ دانستہ طور پر مسلسل ”امریکہ کو پھر سے عظیم بنا دو“ کا وعدہ کر کے اُس عہد کی پرانی یادوں کو استعمال کر رہا ہے۔

لیکن یہ معمول نہیں غیر معمول تھا اور اس کا ظہور جنگ کے بعد مخصوص سیاسی اور معاشی عوامل کے ادغام میں ممکن ہوا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں ایک عالمی معاشی بحران اور زیادہ سنجیدہ سامراجی مخالفین کے دوبارہ ابھار میں امریکی حکمران طبقہ محنت کش تحریک پر حملہ آور ہو گیا اور سرمایہ داری ایک مرتبہ پھر اپنے تاریخی معمول کی جانب گامزن ہونے لگی۔

منافعوں پر مبنی معاشی منڈی کے دو خاصے، آٹومیشن اور آؤٹ سورسنگ، کروڑوں افراد کو ماضی میں میسر مستحکم زندگیوں کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع ہو گئے۔ 1943ء میں کل امریکی نوکریاں کا 39 فیصد حصہ مینوفیکچرنگ نوکریاں تھیں جو 2010ء کی دہائی میں 8 فیصد رہ گئیں۔ بیورو برائے لیبر شماریات کی ایک 2020ء کی رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ نوکریاں ”پانچ (معاشی) بحرانوں میں گرتی رہیں اور ہر مرتبہ نوکریوں کی بحالی بحران سے پہلے کی سطح پر کبھی نہیں ہو سکی۔“

اصلاح پسند اور لیفٹ لبرلز اس کو ایسے بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے یہ محض غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ در حقیقت یہ رجحانات سرمایہ داری کی معاشی منطق کا حصہ ہیں۔ سرمایہ داری میں آٹومیشن کے پُر تضاد اثرات کی تشریح کرتے ہوئے مارکس نے ”اجرت، محنت اور سرمایہ“ میں بیان کیا کہ کیسے نئی مشینری کا تعارف؛

”محنت کشوں کی دیو ہیکل تعداد کو سڑکوں پر پھینک دیتا ہے اور جیسے جدت اور پیداوار بڑھتے جاتے ہیں ان (محنت کشوں) کی مزید چھوٹی تعداد فارغ ہوتی جاتی ہے۔۔ اگر ہم یہ تصور کر بھی لیں کہ وہ تمام افراد، جو مشینری کی وجہ سے براہ راست بیروزگار ہوئے ہیں اور آنے والی اگلی تمام نسل اسی صنعتی سیکٹر میں روزگار کا نتظار کر رہی تھی، اگر انہیں کوئی نیا روزگار مل بھی جاتا ہے۔۔ کیا ہم یقین کریں کہ یہ نیا روزگار اتنی ہی اجرت دے گا جتنی پچھلے روزگار میں مل رہی تھی؟ اگر ایسا ہو تو یہ سیاسی معیشت کے قوانین کے خلاف ہے۔“

اس پورے دور میں یہی سب کچھ عوام کی ایک قابل ذکر آبادی کے ساتھ ہوا ہے کیونکہ بہتر اجرت والی مینوفیکچرنگ نوکریوں کی جگہ مسلسل کم اجرتی سروس سیکٹر کی نوکریاں بڑھتی رہی ہیں جن میں سے اکثریت محض پارٹ ٹائم کام ہی دیتی ہیں۔ جن کی مینوفیکچرنگ نوکریاں بچ گئیں ان کی حقیقی اجرتوں میں مسلسل کمی ہوتی رہی۔ اس سارے عمل میں غیر فعال اور طبقاتی تعاون کرنے والی لیبر اشرافیہ حکمران طبقے کی معاونت کرتی رہی۔

ایلن گرین سپین اور ایڈرین وولڈرج نے ”امریکہ میں سرمایہ داری: متحدہ ریاستوں کی معاشی تاریخ“ میں بیان کیا ہے کہ:

”1900-73ء کے دوران امریکہ میں حقیقی اجرتوں میں سالانہ اضافہ 2 فیصد تھا۔ ان سالوں کا شمار کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمومی اجرت (اور اس سے جڑا عمومی معیار زندگی) ہر 35 سال بعد دگنی ہوتی رہی ہے۔ 1973ء میں اس رجحان کا اختتام ہوا اور امریکی بیورو برائے لیبر شماریات کے مطابق پیداواری اور غیر نگران مزدوروں کی عمومی حقیقی اجرتوں میں گراوٹ شروع ہو گئی۔ 1990ء کی دہائی میں ایک پیداواری مزدور کی عمومی گھنٹہ وار حقیقی اجرت 1973ء کے مقابلے میں 85 فیصد سے کم رہ گئی تھی۔“

2018ء میں پیو ریسرچ سنٹر (Pew Research Center)کی ایک رپورٹ نے اس کی تصدیق کی کہ، ”زیادہ تر امریکی محنت کشوں کے لیے حقیقی اجرتوں میں دہائیوں سے اضافہ نہیں ہوا“۔ اس عہد میں عدم مساوات میں دیو ہیکل اضافہ ہوا اور ڈیپارٹمنٹ برائے خزانہ کی 2023ء میں ایک رپورٹ کے مطابق اجرتیں مزید پرانتشار ہو گئیں، چھٹیوں میں گزرنے والا وقت کم ہونے لگا اور امریکی ریٹائرمنٹ میں آرام دہ زندگی گزارنے سے مسلسل دور ہوتے چلے گئے۔ ”نسلوں کے درمیان معاشی نقل و حرکت بھی کم ہو چکی ہے۔۔ 1940ء کی دہائی میں پیدا ہونے والے 90 فیصد بچے 30 سال کی عمر تک اپنے والدین سے زیادہ کمائی کر رہے تھے جبکہ 1980ء کی دہائی میں پیدا ہونے والے نصف بچے ہی اپنے والدین سے زیادہ کمائی کر رہے ہیں۔“

اس ساری صورتحال کا 2008ء کے عالمی سرمایہ دارانہ بحران سے پہلے ہی عوامی شعور پر در پردہ ہی صحیح لیکن دیو ہیکل اثر پڑ چکا تھا۔ 2008ء کی ”عظیم کساد بازاری“ کے بعد امریکی تاریخ کی طویل ترین اور کمزور ترین معاشی بحالی ہوئی۔

لازمیت اپنا اظہار حادثے کے ذریعے کرتی ہے

ظاہر ہے اس سب کا ایک سیاسی رد عمل ہونا ناگزیر تھا۔ 2016ء کے انتخابی دور کا آغاز اس امید سے ہوا تھا کہ یہ جیب بش اور ہیلری کلنٹن کے درمیان ایک ”معمول“ کا ٹاکرا ہو گا۔ لیکن ایک معیاری مرحلہ عبور ہو چکا تھا۔ جلد ہی واضح ہو گیا کہ کروڑوں امریکی محنت کش اب اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں سے متنفر ہو چکے ہیں۔

برنی سینڈرز کے گرد محنت کشوں اور نوجوانوں میں موجود ترقی پسند قوتیں مجتمع ہو گئیں جو ایک نیم ”سوشلسٹ“ پروگرام پیش کر رہا تھا جس میں مفت کالج تعلیم، شعبہ صحت میں اصلاحات اور عوامی ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے نوکریاں دینا شامل تھا۔ اس دوران ٹرمپ نے جنگجوانہ انداز میں رائٹ وِنگ رجحان رکھنے والے افراد کے زیر سطح غم و غصے کو بھڑکایا۔ کئی ٹرمپ حامی سینڈرز کی مہم سے ہمدردی کرتے تھے اور انہیں جیتا جا سکتا تھا۔ لیکن برنی سینڈرز کے برعکس، جو ڈیموکریٹک پارٹی کنونشن میں پارٹی کے سامنے سرنگوں ہو چکا تھا، ٹرمپ آخری وقت تک بے باکی سے لڑتا رہا۔ ایک طرف سینڈرز اپنی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی حصہ امیدوار کو وفا داری کا یقین دلا رہا تھا اور دوسری طرف ٹرمپ تمام رکاوٹوں کو روندتا ہوا اپنی پارٹی کا امیدوار بننے میں کامیاب ہو گیا۔

انتخابات قریب آنے کے ساتھ کلنٹن نے اپنی امیدواری کو سٹیٹس کو کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ ”بطور صدر میں ڈیموکریٹک کامیابیوں کا ریکارڈ آگے بڑھاؤں گی۔ میں صدر اوبامہ کی کامیابیوں کا دفاع کروں گی اور انہیں مزید آگے بڑھاؤں گی“۔ لیکن وہ یہ بھول گئی کہ تاحیات (ڈیموکریٹک پارٹی) حامیوں سمیت کروڑوں افراد کے لیے اوبامہ میراث کے تسلسل کا مطلب الام و مصائب سے بھری زندگی کا ہی تسلسل تھا۔ اس کے معنی بند فیکٹریاں، رسٹ بیلٹ قصبوں (امریکہ میں سابق مینوفیکچرنگ علاقے۔ مترجم) کی جاری بربادی، نشے کی قومی وباء اور کم اجرتی سروس سیکٹر کی نوکریوں کا بڑھنا تھا۔

دوسری طرف ٹرمپ اپنے آپ کو ایک باہر کا فرد بنا کر پیش کرتا رہا جس کا عزم واشنگٹن جوہڑ کو خالی کرنا تھا۔ اس نے بالکل مختلف پیغام دیا کہ ”ہماری تحریک کا مقصد ایک ناکام اور کرپٹ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کا متبادل ایک نئی حکومت ہے جسے آپ، امریکی عوام کنٹرول کرو گے۔۔ سیاسی اسٹیبلشمنٹ نے ہماری فیکٹریاں اور نوکریاں برباد کر دی ہیں جو میکسیکو، چین اور دنیا کے دیگر ممالک میں جا رہی ہیں۔ یہ ایک عالمی طاقت کا ڈھانچہ ہے جو ان معاشی فیصلوں کا ذمہ دار ہے جنہوں نے ہمارے محنت کش طبقے کو لوٹ لیا ہے، ہمارے ملک کی دولت چوری کر لی ہے اور یہ سارا پیسہ مٹھی بھر بڑی اجارہ داریوں اور سیاسی ہستیوں کی جیبوں میں ڈال دیا ہے۔“

جب آپ ان پیغامات اور ان کے سیاق و سباق کا موازنہ کریں گے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ ٹرمپ کیوں 2016ء کے انتخابات میں فاتح تھا۔

یقینا یہ شعلہ بیانی محض سفاک لفاظی اور شاطر چالبازی ہے۔ در حقیقت 2015ء میں ٹرمپ نے ایک نجی ملاقات میں ییل (Yale)یونیورسٹی کے بزنس پروفیسر جیفری سونن فیلڈ کو بتایا تھا کہ وہ دانستہ طور پر برنی سینڈرز کا اجارہ داریوں کے خلاف پیغام کو چرا رہا ہے کیونکہ یہ مؤثر ہے۔ لیکن کسی بھی حقیقی اسٹیبلشمنٹ مخالف قوت کی عدم موجودگی میں ٹرمپ غم و غصے کے لہر پر تیرتا ہوا وائٹ ہاؤس جا پہنچا جس میں غیر جمہوری الیکٹورل کالج نے کلیدی کردار ادا کیا جسے بانیان مملکت نے بنایا ہی اس مقصد کے لیے تھا کہ اس طرح کے ”پاپولر جذبات“ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

حکمران طبقے کے نکتہ نظر سے ٹرمپ ایک ”بے قابو عنصر“ ہے جس نے ریپبلیکن پارٹی اور صدارت پر قبضہ کر لیا ہے۔ حکمران طبقے کی اکثریت شدید متنفر تھی کہ اتنا تنگ نظر، خود غرض اور غیر متوقع انسان ان کا نظام چلا رہا ہے۔ مارکس نے وضاحت کی تھی کہ ”جدید ریاست کی عاملہ پورے حکمران طبقے کے روزمرہ معاملات چلانے کی ایک کمیٹی سے زیادہ کچھ نہیں“ اور اس کام کے لیے سب سے زیادہ سنجیدہ سرمایہ دار ٹرمپ پر اعتماد کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔

تمام ہلڑ بازی اور اسکینڈلوں کے پس پردہ اس کی صدارت کا خاصہ وہی روایتی ریپبلیکن پارٹی پالیسیاں تھیں جن میں اس کا مشہور زمانہ کارپوریٹ ٹیکس کو کم کرنا بھی شامل تھا۔ تحفظاتی پالیسیوں کے عالمی رجحانات سے مطابقت میں اس نے محصولات لاگو کیے جن میں سے زیادہ تر کو بائیڈن نے جاری رکھا۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ ان سالوں میں عمومی معاشی استحکام موجود تھا اور ساتھ ہی پیش رو اوبامہ اور بش کی طرح خسارہ اخراجات (دیوہیکل اخراجات کی وجہ سے خسارے کو پیسے چھاپ کر پورا کرنا۔ مترجم) بھی جاری رکھے گئے۔ 2019ء میں افق پر ایک معاشی بحران کے آثار نمودار ہو چکے تھے لیکن اس نے کامیابی سے معاشی بربادی کا سارا ملبہ کرونا وباء پر ڈال دیا۔ مسلسل انتشار کے نتیجے میں ”اور کوئی بھی لیکن ٹرمپ نہیں!“ موڈ نے جنم لیا جس کی بنیاد پر بائیڈن بمشکل وائٹ ہاؤس تک پہنچا۔ لیکن انتخابات دھاندلی اور بائیڈن حکومت میں دیوہیکل افراط زر نے ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی پر گرفت مزید مضبوط کر دی ہے۔

بین الطبقاتی انتخابی اتحاد

بورژوا میڈیا میں یہ عام روش ہے کہ امریکی سیاست کو دو بلاکوں کے حوالے سے پیش کیا جائے جس میں لبرل میڈیا تمام ”ٹرمپ حامیوں“ کو بنیادی طور پر ایک قسم کا رجعتی ہجوم بنا کر پیش کرتا ہے۔ یقینا ٹرمپ کے کچھ گرم جوش حامی شدید رجعتی ہیں جن میں کچھ فسطائی گروہ بھی شامل ہیں۔ رجعتی چھوٹے کاروباریوں کی ایک پرت بھی اس کی حامی ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ٹرمپ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد محنت کش افراد ہیں جن کی زندگیاں گلی سڑی سرمایہ داری نے تباہ و برباد کر دی ہیں۔

کئی افراد کے لیے وہ ڈیموکریٹوں کے مقابلے میں ”کم تر برائی“ ہے۔ وہ اس کے اعلانیہ شاونزم کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے باوجود اس کی حمایت کرتے ہیں۔ مثلاً ایک 2024ء پیو ریسرچ رائے شماری کے مطابق 91 فیصد ریپبلیکن ووٹر ”بہت زیادہ یا کچھ پُر اعتماد“ تھے کہ معاشی پالیسی کے حوالے سے ٹرمپ اچھے فیصلے کر سکتا ہے جبکہ صرف 26 فیصد ”اس کے ذاتی افعال کو پسند کرتے ہیں“۔

وال سٹریٹ جرنل نے ایک فورڈ محنت کش کا انٹرویو کیا جو یونائیٹڈ آٹو ورکرز یونین کا ممبر تھا اور 2016ء میں ٹرمپ انتخابی مہم تک غیر سیاسی تھا۔ جب اسے ٹرمپ کی حمایت کے حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ ”مجھے پتا تھا کہ ڈیموکریٹس کے پاس 1990ء کی دہائی میں لیفٹ محنت کش افراد موجود تھے۔ ٹرمپ کوئی غیر معمولی دماغ نہیں ہے۔ اس نے بس جان لیا ہے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور وہ بہادر ہے کہ ان افراد کے خلاف کھڑا ہوا ہے۔ تارکین وطن کی دیو ہیکل تعداد، گرین نیو ڈیل۔۔ یہ سب بکواس ہے۔ اس سے محنت کش طبقے کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔“

لیبر قائدین اور لیفٹ اصلاح پسندوں کی طبقاتی اتحاد پالیسی کا نتیجہ یہی کنفیوژن اور بگڑا ہوا نکتہ نظر نکلتا ہے۔ امریکی محنت کش طبقے کو اپیلیں کر کے ٹرمپ نے کئی افراد کی حمایت حاصل کر لی ہے جو اپنے آپ کو محنت کش سمجھتے ہیں۔ اس لیے 2024ء میں ریپبلیکن پارٹی پلیٹ فارم نے وعدہ کیا کہ وہ ”امریکی محنت کشوں اور کسانوں کا غیر منصفانہ تجارت کے خلاف دفاع کریں گے“، ”امریکی خواب واپس آئے گا اور دوبارہ سستا ہو گا“ اور ”تاریخ کی عظیم ترین معیشت تعمیر کی جائے گی“۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ یہ کام سرمایہ دارانہ بحران میں ناممکن ہے۔

ایک عوامی کمیونسٹ پارٹی اگر ایک ایسا طبقاتی پروگرام دے جس کا مقصد سب کے معیار زندگی میں بہتری ہو تو وہ ٹرمپ کے کئی محنت کش حامیوں کو جیت سکتی ہے۔ حل یہ نہیں ہے کہ تارکین وطن کو مورد الزام ٹھہرایا جائے یا موسمیاتی تبدیلی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر حملہ کیا جائے۔۔ بلکہ فارچون 500 کمپنیوں کو محنت کش کنٹرول میں قومیاء کر ایک جمہوری منصوبہ بند معیشت تعمیر کی جائے۔ لیکن محنت کش طبقے کی قیادت کے بحران میں یہ پرتیں رائٹ وِنگ کی حامی بنی ہوئی ہیں۔

کیا ٹرمپ ایک آمریت کا خواہش مند ہے؟

ٹرمپ کے ابھار اور خاص طور پر پہلی صدارت اور پھر 2021ء میں 6 جنوری کے دن امریکی کانگریس پر حملے کے بعد، لبرلز نے رونا دھونا ڈالا ہوا ہے کہ امریکہ کو فسطائیت اور آمریت سے خطرہ ہے۔ یہ ایک سطحی موازنہ ہے اور ڈرانے کی ایک چال ہے تاکہ ڈیموکریٹس کے لیے حمایت حاصل ہو۔

قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ آخر ”چاہتا“ کیا ہے لیکن یہ کوئی فیصلہ کن سوال نہیں ہے۔ اصل اہم نکتہ یہ ہے کہ موجودہ طبقاتی قوتوں کے توازن میں ٹرمپ ایک آمریت لاگو کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہے، چاہے وہ ایک فسطائی ریاست ہو یا ایک عدم مستحکم عسکری آمریت۔ یہ ٹرمپ کی ذاتی خواہشات کا سوال نہیں ہے بلکہ طبقات کے درمیان سماجی تعلقات کا سوال ہے۔ آج کے امریکہ میں کوئی بھی سرمایہ دارانہ ریاست 12 کروڑ سے زائد امریکی محنت کشوں کو نظر انداز نہیں کر سکتی جو امریکی سماج کو چلاتے ہیں اور دہائیوں کی نیند کے بعد اب جاگ رہے ہیں۔

اینگلز نے ”لڈوگ فیورباخ اور کلاسیکی جرمن فلسفے کا خاتمہ“ میں بیان کیا تھا کہ جب ہم تاریخ کا تجزیہ کریں تو ”سوال یہ نہیں ہے کہ ایک فرد واحد، چاہے وہ کتنا ہی عظیم (اہم) ہو، اس کی خواہشات کیا ہیں بلکہ اصل خواہشات وہ ہیں جو دیو ہیکل عوام، پوری قوم اور پھر ہر قوم میں موجود پورے طبقات کو متحرک کرتے ہیں۔“

فسطائیت ایک منفرد عسکری آمریت ہے جس کی بنیاد غم و غصے سے بپھری پیٹی بورژوازی ہوتی ہے جس کے ذریعے منظم محنت کش طبقے کو کچل دیا جاتا ہے۔ اٹلی، جرمنی اور اسپین میں اقتدار حاصل کرنا تاریخ کا ایک

امریکہ میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے جہاں دیوہیکل قوت رکھنے والا محنت کش طبقہ ابھی تک کسی شکست سے دوچار نہیں ہوا ہے۔ ٹرمپ کے لیے قریب المدت میں یا کچھ عرصے میں ایک بونا پارٹسٹ عسکری آمریت بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے طبقاتی جدوجہد کو ایک بند گلی میں داخل ہونا ہو گا اور پھر ٹرمپ کو عسکری قوتوں کے قابل ذکر حصے کی حمایت درکار ہو گی۔۔ فی الحال ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔

2020ء میں بائیڈن سے شکست خوردہ ہونے کے بعد ٹرمپ اقتدار پر قابض رہنا چاہتاتھا اور اس کوشش میں اس نے کئی آپشنز کا تجربہ کیا۔ لیکن امریکی حکمران طبقہ اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کرنے کے لیے پاگل ہو چکا تھا اور اس سلسلے میں اس کی کسی صورت مدد نہیں کی جا سکتی تھی۔ کانگریس پر حملے سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے ایک رائے شائع کی جس پر دس سابق سیکرٹری دفاع کے دستخط موجود تھے جنہوں نے انتخابی نتائج پر ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کی شدید مخالفت کی تھی۔ کانگریس پر حملہ کرنے والے ٹرمپ حامی عام افراد تھے جو اگر وسیع تر منظر نامے میں دیکھے جائیں تو آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ ان کے پاس کوئی منصوبہ یا حکمران طبقے کی کوئی حمایت موجود نہیں تھی اور ان کا حقیقی طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کا رتی برابر امکان بھی موجود نہیں تھا۔

ٹرمپ کوئی ”معمول“ کا سیاست دان نہیں ہے اور اس کی شعلہ بیانی آمرانہ ہی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے حامی یقینا ایک فسطائی تحریک سے نہیں ہیں اور اس کا ابھار امریکی عوام میں رائٹ وِنگ سیاست کی جانب ایک بنیادی جھکاؤ کی عکاسی نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ عدم استحکام اور محنت کش طبقے کے سامنے ایک مربوط طبقاتی متبادل کی عدم موجودگی کا اظہار ہے۔ محنت کش طبقہ انقلابی جدوجہد میں کئی شکستوں سے دوچار اور تھکاوٹ کا شکار ہو گا تو ہی ٹرمپ کے لیے ایک عسکری آمریت مسلط کرنے کا آپشن کھل سکتا ہے۔ لیکن اس وقت صورتحال مکمل طور پر الٹ ہے یعنی ہم اگلے کئی سال طبقاتی جدوجہد میں دیو ہیکل اور تاریخی اٹھان دیکھیں گے۔

امریکی سرمایہ داری کو ”دوبارہ عظیم“ نہیں بنایا جا سکتا

2016ء میں ایک قصبے کے ہال میں باراک اوبامہ سے پوچھا گیا کہ محنت کشوں کا مستقبل کیا ہے کیونکہ نوکریاں مسلسل ختم ہو رہی ہیں۔ کیونکہ اوبامہ دو بار صدر بننے کے بعد تاحیات صدارت کی دوڑ سے باہر ہو چکا تھا، اس نے معمول سے ہٹ کر زیادہ سچ بولتے ہوئے آٹومیشن اور بیرون ملک نوکریوں کی منتقلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ نوکریاں ”اب کبھی واپس نہیں آئیں گی“۔ ٹرمپ کا وعدہ کہ ”وہ تمام نوکریاں واپس لائے گا“، لیکن اوبامہ نے سوال کیا کہ ”آپ یہ کیسے کریں گے؟ آپ کیا کریں گے؟۔۔ آپ کے پاس کیا جادو ہے؟“

یہ سرمایہ داروں اور ان کے سیاست دانوں کے لیے ایک کڑوا سچ ہے۔ ان کے پاس ایسی کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے جس کے ذریعے معاشی بڑھوتری اور استحکام بحال کیا جائے۔ کوئی سرمایہ دار سیاست دان سرمایہ دارانہ معیشت کی سمت کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ سرمایہ داری اپنی سرشت میں پر انتشار پیداوار ہے اور بورژوا انتخابات محض یہ فیصلہ کریں گے کہ امریکی سرمایہ داری کی ڈوبتی کشتی کا اگلا کپتان کون ہو گا۔

ٹرمپ کا ابھار طویل رجحانات کا انجام ہے۔۔ دہائیوں سے جاری امریکی سرمایہ داری کا نامیاتی انحطاط، لیفٹ اور محنت کش قیادت کی تاریخی تنزلی۔ اس کو شکست دینے کے کسی بھی تناظر میں طویل تاریخ کا جائزہ بھی لینا ہو گا۔ ڈیموکریٹس وقتی طور پر بیلٹ بکسوں کے ذریعے ٹرمپ کا راستہ روکنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی نظام کے ناگزیر تضادات کو حل نہیں کر سکتے۔ جب تک ایسے امیدوار موجود ہوں گے جو سٹیٹس کو اور سیاسی کرپشن کے خلاف جدوجہد کی شعلہ بیانی کریں گے، اسٹیبلشمنٹ سیاست دان سیاسی منظر نامے پر ان کی جاری حاکمیت کو روکنے میں ناکام رہیں گے۔ لیکن رنگ بے رنگ ”پاپولزم“ کافی نہیں ہے، صرف ایک سوشلسٹ انقلاب ہی مستحکم نوکریوں اور پوری عوام کے لیے بہتر معیار زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے تاکہ ہر قسم کی رجعتی شعلہ بیانی کی معاشی بنیادیں ہی ختم ہو جائیں۔

ایسے پروگرام کی فتح مند جدوجہد کے لیے کمیونسٹوں کو تمام سرمایہ دارانہ سیاسی پارٹیوں کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں محنت کش طبقے کے دشمن ہیں جو امریکی سرمایہ داری کے نامیاتی انحطاط کا کچھ نہیں کر سکتے۔ تجربہ سکھاتا ہے کہ ”کم تر برائی“ کو ووٹ ڈالنا بیکار ہے اور در حقیقت وہ زرخیز زمین تیار کرتا ہے جس پر ”بڑی برائی“ پوری شد و مد کے ساتھ واپس اُگ آتی ہے۔ ہمیں ہر صورت اپنے سیاسی پرچم کو بے داغ رکھنا ہے اور مستقبل کی تیاری کرنی ہے۔ ہمیں شعوری ادراک ہونا چاہیے کہ جن عوامل نے ٹرمپ جیسا کردار ابھارا ہے وہی اعلانیہ طبقاتی جنگ کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔ کیونکہ ٹرمپ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکتا اس لیے وہ بھی اپنے حامیوں کی نظر میں رسوا ہو گا۔

ہماری فوری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک طبقاتی طور پر آزاد اور منظم کمیونسٹ پارٹی کو تعمیر کریں جو حتمی طور پر محنت کش طبقے کی اکثریت کو دونوں پارٹیوں سے جیتے گی۔ آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ امریکہ میں سیاسی پولرائزیشن کو طبقاتی بنیادوں پر استوار کیا جائے اور محنت کش طبقے کے درست غم و غصے کو مشترکہ دشمن کی جانب منظم کیا جائے۔۔ یعنی بذاتِ خود سرمایہ دارانہ نظام۔

Source By – www.marxist.pk

Loading

The post ٹرمپ ازم کیا ہے؟ – RCP | انقلابی کمیونسٹ پارٹی appeared first on Asia Commune.

]]>
Pakistan: Mass student protest against rape at Punjab College https://asiacommune.org/2024/10/24/pakistan-mass-student-protest-against-rape-at-punjab-college/ Thu, 24 Oct 2024 14:32:17 +0000 https://asiacommune.org/?p=8035 Shezhad Arshad On October 14, students from the Punjab Group of Colleges (PGC) in Lahore staged a massive protest against a rape on a college campus. The assault reportedly took place some days before on the Gulberg Campus where a security guard raped a first year student. While the students are certain that rape was committed, the Principal has threatened to stop them protesting. The students of Gulberg Campus 10 say, „She was called to the basement and the security guard raped her“. Hearing her screams from a classroom, students…

The post Pakistan: Mass student protest against rape at Punjab College appeared first on Asia Commune.

]]>

Shezhad Arshad

On October 14, students from the Punjab Group of Colleges (PGC) in Lahore staged a massive protest against a rape on a college campus. The assault reportedly took place some days before on the Gulberg Campus where a security guard raped a first year student.

While the students are certain that rape was committed, the Principal has threatened to stop them protesting. The students of Gulberg Campus 10 say, „She was called to the basement and the security guard raped her“. Hearing her screams from a classroom, students went to help the student whose condition was so bad that teachers called for an ambulance and she was taken to hospital.

When the students of this college gathered to protest and to demand action and an investigation against the accused, they were intimidated by the Principal of the university and other teachers. But they did not back down. Rather, they took to social media to call for action. This led to the protests at both Gulberg campus 10 and other campuses on October 14. Students of other private and government colleges and universities took up the protest against this rape and in solidarity with the protesting students.

Initially, some of the state authorities tried to calm down the students and derail the protests. The police took the accused into custody and the Punjab minister for Higher and School Education, Rana Sikandar Hayat, visited the students and promised them justice. It immediately became clear that this was an empty promise.

State and university administration turn against victim

In fact, the college administration called in the police to attack the protesters and denied the rape had ever happened. The media and state authorities also turned against the protesters massively, answering their protests with threats, fabrications and slander. On that day alone, more than 28 students were injured by police violence.

The police claimed that no report had been filed against the accused rapist and that, according to their investigation, no such assault had taken place, even though the security guard had been arrested.

The government and the media turned against the students. In a video, a police officer belonging to a well-known and powerful family, Shahr Bano, appeared on social media reciting Quranic verses to “prove” that it was a rumour and that no such incident actually happened. This was also shared on PGC’s Facebook page to back their denial.

Likewise, the same officer (Shahr Bano) appeared in another video with the uncle of the female student. In this video, the uncle said that the girl’s name was being used on social media but nothing like that had happened to her. He said she had fallen down the stairs 10 days ago and they had x-rays and doctor’s reports to prove this.

In the meantime, the college administration destroyed evidence of the rape and the police sided with the college administration, leaving the victim and her family in deep fear. Punjab Chief Minister Maryam Nawaz declared that the alleged rape was “fabricated news”, blaming Imran Khan’s political party, Tehreek-e-Insaaf, PTI, for spreading the “fake reports” on social media. This has created a situation in which liberals and people on the left are quite confused with some believing that this is indeed a PTI conspiracy.

Private Business and patriarchy

The students, however, are not prepared to accept these lies. They all know that harassment, sexual assaults and even rape are frequent on the campuses of PGC, one of the largest private sector university and college groups. It is owned by Mian Amir Mahmood, who not only owns the TV network Dunya News, but also two chartered universities and 56 campuses, where about 70,000 students study. The group is worth about $132.6 million (Rs 37 billion) and has thousands of employees. Education is a big business and Mian Amir has a big stake in the business and is deeply connected to the ruling elite.

It is clear that the whole matter is being covered up so that the business empire established in the name of education is not harmed and there is no resistance against the way private education has become a profitable business. Currently, there are thousands of private educational institutions, including large groups, and this is a business worth trillions of rupees. All of them have the same interest, that there should be no student resistance either to this particular incident or to more general sexual harassment and other forms of abuse.

In all this, the role of the political parties of the Pakistan elite has been badly exposed. Instead of supporting the students, they are now defending the system, which leads to systematic sexist abuse and rape. The ruling Pakistan Muslim League (Nawaz) is trying to take additional political advantage by claiming the accusation of rape was a PTI conspiracy. They are supporting a private institution despite the very disturbing reports and when sexual harassment is on the rise in these private institutions.

Students do not back down

The students’ struggle has not ended. On October 15, there were solidarity actions and protests in other cities of Punjab like Gujranwala, Gujrat, Faisalabad, Jaranwala and Kamoke as well as in Peshawar and many other cities. Progressive students in Lahore, especially the Progressive Students’ Collective, remain very active on this issue and stand with students against police violence. They also held a protest march from Government College, Lahore, to the Punjab Assembly on October 15 and staged a sit in at Faisal Chowk, a major road intersection, in Lahore. They raised the following the following demands:

  • A committee consisting of independent human rights organisations, student representatives and judges should be established to investigate the Punjab College rape assault, the harassment incident in Lahore College for Women and the violence against the students.
  • Anti-harassment committees should be established on all campuses and representation of students, especially female students, should be ensured.
  • An awareness campaign on laws and procedures related to harassment should be mounted and these awareness guidelines should be included in the curriculum.

Since October 14, the movement has spread even more, but so also have the repression and attacks by the police. On October 17, for example, there were huge protests on the streets of Rawalpindi with more than 250 students arrested. The Progressive Students’ Collective, one of the main organisations backing the initially very spontaneous protests, declared on October 16 on X: “Until and unless the demands of students are met, we will continue to expand these protests across the country”. They need and deserve the backing of all working class and progressive organisations, of the entire labour, trade union and women’s movement for their courageous struggle.

Sexism in Pakistan

In Pakistan, assaults against women happen on a daily basis in schools, colleges, universities and workplaces. In most cases, however, the victims tolerate it silently because they know if they speak out nothing will happen to the perpetrators but they themselves will suffer defamation. Often families also silence women in the name of “honour” or even blame them. So this movement is very important and it should bring out criticism against sexual harassment and patriarchy. Anti-harassment committees should be formed in all institutions, workplaces and in the neighbourhoods, instead of waiting for the government or the college managements.

Students should elect their own committees to conduct an independent investigation into the student’s rape. The committees should investigate cases of sexual assault and should be elected at the schools, colleges and universities and democratic decisions should be made in these committees against sexual harassment. This will help the students to resist collectively, even where the administration tries to deny the cases or backs the criminals. Such committees should not be confined to the students, but also include the workers and trade unions on the campuses. Similarly, the security on the campus should not be organised by private business or the administration, but controlled by students and workers, so that they protect the victims, not the perpetrators.

This movement against sexual harassment is very important. This protest is showing the anger of the students due to the situation in the colleges. The growing capitalist crisis already means that their lives will be miserable, even after education they may not get a good job. Currently, teachers in government schools and workers in other departments are protesting across Punjab against privatisation and other cuts. Massive protest movements are also developing in many other provinces. In this situation, the space for public protest is widening.

This opens the very real chance to unite the progressive students fighting against sexism and patriarchy on the campuses with the struggles of the workers. This would allow the building of a massive joint movement against repression, against sexism and against the programmes of privatisation and cuts of the IMF programme, which affect workers, students and the mass of the population. For this, the movements developing across the country need to form a united front of the progressive students, the left and trade unions in a wider struggle against the attacks by the government, the bourgeois and reactionary institutions and the capitalist class.

Loading

The post Pakistan: Mass student protest against rape at Punjab College appeared first on Asia Commune.

]]>
چین کا ایک اور کارنامہ فلسطینی گروپوں میں بھی صلح کروا دی https://asiacommune.org/2024/09/01/%da%86%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%81%d9%84%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%86%db%8c-%da%af%d8%b1%d9%88%d9%be%d9%88%da%ba-%d9%85/ Sun, 01 Sep 2024 12:59:14 +0000 https://asiacommune.org/?p=7802 Leave a Comment / International, News, Politics / By left سامراج اور سرمایہ داری جنگیں پیدا کرتے ہیں سوشلزم امن کا پیامبر ہے  فلسطین لبریشن آرگنائزیشن، یا پی ایل او  پہلی بار 1964 میں قاہرہ، مصر میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران قائم کی گئی تھی۔ تنظیم کے ابتدائی اہداف میں   مختلف  عرب گروہوں کو متحد کرنا اور اسرائیل میں ایک آزاد فلسطین کی تشکیل کرنا تھا۔ یاسر عرفات  ایک بڑا لیڈر تھا اس کی قیادت میں پی ایل او میں شامل بہت سے گروپ متحد تھےلیکن یاسر عرفات کی…

The post چین کا ایک اور کارنامہ فلسطینی گروپوں میں بھی صلح کروا دی appeared first on Asia Commune.

]]>

Leave a Comment / International, News, Politics / By left

سامراج اور سرمایہ داری جنگیں پیدا کرتے ہیں سوشلزم امن کا پیامبر ہے

 فلسطین لبریشن آرگنائزیشن، یا پی ایل او  پہلی بار 1964 میں قاہرہ، مصر میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران قائم کی گئی تھی۔ تنظیم کے ابتدائی اہداف میں   مختلف  عرب گروہوں کو متحد کرنا اور اسرائیل میں ایک آزاد فلسطین کی تشکیل کرنا تھا۔ یاسر عرفات  ایک بڑا لیڈر تھا اس کی قیادت میں پی ایل او میں شامل بہت سے گروپ متحد تھےلیکن یاسر عرفات کی وفات کے بعد جو قیادت کا خلاء پیدا ہوا وہ آج تک پر نہی ہو سکا- اور فلسطینی گروپوں میں اختلافات نمایاں ہو کر سامنے انے لگے-جس سے ان کی تحریک آزادی کمزور ہوئی،،اسرائیل کو تقویت ملی اور عرب ملکوں کی حمائیت بھی کم ہو گئی- سوویٹ یونین کے خاتمے کے بعد جب وہاں سوشلزم نہ رہا اور دنیا دو قطبی سے یک قطبی ہو گئی تو امریکی اور دیگر سامراجی ممالک مشرق وسطی پر چڑھ دوڑے اور کئی ایک اسلامی ملکون کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جن مین عراق-لیبیا-فلسطین-شام –یمن وغیرہ شامل ہیں-پھر وقت نے کروٹ لی اور روس ایک سرمایہ دار ملک کے طور پر اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لئے آگے بڑھا اور دوسری طرف چین سوشلزم کا جھنڈا بلند کئے ہوئے تیسری دنیا کے پسماندہ ملکوں کی معاشی ترقی کے لئے کئ منصوبے اور پراجیکٹ لے کر امریکہ کے سامنے ا کھڑا ہوا ہے

چین کے ان منصوبوں مین سب سے برا منصوبہ دنیا میں امن قایم کرنا اورغریب ملکوں اور قومون کو عالمی سامراج کی معاشی غلامی سے آزاد کروانا ہے –عوامی جمہوریہ چیں امن کا پرچم لیکر مسلمان ملکوں اور مشرق وسطی میں پہنچا تو امریکی سامراج کی لگائی ہوئی آگ پر پانی ڈالنا شروع کیا اور ایران اور عرب ملکوں کی صدیوں پر محیط اختلافات کو ختم کروانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور سعودی عرب اور ایران میں صلح کروا دی- اب چین نے امن کا ایک اور چھکا مارا ہے اور فلسطینی تنظیموں کے اختلافات ختم کروا کر ان کے درمیان ایک معائدہ کروا دیا ہے تا کہ وہ اپنی آزادی کی جدوجہد کو منظم طور پر جاری رکھ سکین اور اسرائیل کے ظلم و جبر کا مقبلہ کر سکیں

اس سلسلے میں  چین کی میزبانی اور قیادت میں بیجنگ میں 21 سے 23 جولائی تک فلسطینیوں کے مختلف گروہوں کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا اور آخری روز یعنی منگل کو فریقین نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔چین کے سرکاری ٹی وی ‘سی جی ٹی این’ کے مطابق بیجنگ میں ہونے والے مذاکراتی عمل میں فلسطینیوں کے 14 دھڑوں نے شرکت کی جن میں ایک دوسرے کے حریف حماس اور الفتح کے رہنما بھی شریک تھے۔حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق اور الفتح گروپ کے رہنما محمد ال علولی سمیت دیگر 12 فلسطینی دھڑوں کے نمائندوں نے مذاکراتی عمل میں شرکت کی۔

چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ فلسطینی تنظیموں نے غزہ جنگ کے بعد عبوری قومی مصالحتی حکومت کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔حماس کے رہنما نے چینی وزیرِ خارجہ اور فلسطینی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ” آج ہم نے قومی اتحاد کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں  اسے ہم اتحاد کے سفر کو مکمل کرنے کا راستہ کہہ سکتے ہیں “

انہوں نے کہا کہ ہم قومی اتحاد کے لیے پرعزم ہیں اور اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد چینی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مصالحت  فلسطینی دھڑوں کا اندرونی معاملہ ہے لیکن بین الاقوامی تعاون کے بغیر مصالحت کے فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ چینی وزیرِ خارجہ کے مطابق منگل کو ہونے والے مذاکراتی عمل میں مصر، الجیریا اور روس کے سفیر بھی موجود تھے۔وانگ ژی کے مطابق چین مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے غزہ میں جامع اور طویل المدت جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔

حماس اور الفتح کے رہنما رواں برس اپریل میں بھی چین میں اکٹھے ہوئے تھے اور فریقین نے 17 سال سے جاری اختلاف کے خاتمے اور اعتماد کی بحالی کے لیے مذاکرات کیے تھے۔حماس اور الفتح کئی سالوں سے ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ دونوں دھڑوں کے درمیان کئی خون ریز تصادم بھی ہوئے جب کہ غزہ سے الفتح کی بے دخلی اور 2006 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس نے غزہ میں اپنی خودساختہ حکومت قائم کر لی تھی جب کہ الفتح مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک حصے پر حکومت کر رہی ہے۔

Loading

The post چین کا ایک اور کارنامہ فلسطینی گروپوں میں بھی صلح کروا دی appeared first on Asia Commune.

]]>